تاریخ افکار اسلامی — Page 363
۳۶۳ جو فنافی الرسول کے مقام پر فائز ہو اور متبوع کے مقاصد کی تکمیل کرنے والا ہو۔ایک دوسری جگہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں۔سوجیسا کہ وہ نبی شہزادہ دنیا میں غربت اور مسکینی سے آیا اور غربت اور مسکینی اور حلم کا دنیا کو نمونہ دکھلایا۔اس زمانے میں خدا نے چاہا کہ اس کے نمونہ پر مجھے بھی جو امیری اور حکومت کے خاندان سے ہوں اور ظاہری طور پر بھی اس شہزادہ نبی اللہ کے حالات سے مشابہت رکھتا ہوں۔ان لوگوں میں کھڑا کرے جو ملکوتی اخلاق سے بہت دور جا پڑے ہیں۔سو اس نمونہ پر میرے لئے خدا نے یہی چاہا ہے کہ میں غربت اور مسکینی سے دنیا میں رہوں۔خدا کے کلام میں قدیم سے وعدہ تھا کہ ایسا انسان دنیا میں پیدا ہو۔اسی لحاظ سے خدا نے میرا نام مسیح موعود رکھا۔۔۔اس کے معنی اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں کہ مجھے تمام اخلاقی حالتوں میں خدائے قیوم نے حضرت مسیح علیہ السلام کا نمونہ ٹھہرایا ہے تا امن اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو روحانی زندگی بخشوں کے ،، اس اصول کی وضاحت کے بعد اب ہم وہ احادیث لکھتے ہیں جو مستند اور صحیح ہیں ان کی صحت میں کسی محدث اور فقیہ نے شک کا اظہار نہیں کیا اور اُس میں ظہور عظیم کی پیشگوئی ہے۔ا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔66 هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ أَيتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔یعنی وہی خدا ہے جس نے اُمیوں میں ( جو کسی مدرسہ کے پڑھے ہوئے نہیں) انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کو خدا کے احکام سناتا ہے اور ان کا تزکیہ اور ان کی تربیت کرتا ہے اور ان کو علم و حکمت سکھاتا ہے جبکہ وہ اس سے پہلے بڑی بھول اور جہالت میں پڑے ہوئے تھے اور وہ خدا ان کے سوا ایسے دوسرے لوگوں میں بھی اُسے بھیجے گا جو ابھی تک ان میں شامل نہیں ہوئے اور وہ ایسا کرنے پر غالب اور قادر ہے اور بڑی حکمت والا ہے۔کشف الغطاء روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۹۲ ۱۹۳ الجمعة : ۴،۳