تاریخ افکار اسلامی — Page 358
تاریخ افکارا سلامی ۳۵۸ فقہاء بھی ان سے بڑی عقیدت رکھتے تھے اور انہیں ان کی قیادت سے ہمد روی تھی۔چونکہ اس تحریک میں بنو عباس پیش پیش تھے اس لئے جب ابو مسلم خراسانی کی افواج کی مدد سے یہ تحریک کامیاب ہوئی اور بنو امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو بنو عباس نے اپنے اثر و رسوخ سے کام ++ لیتے ہوئے ابو مسلم کو اپنی حمایت پر آمادہ کر کے حکومت پر قبضہ کر لیا اور خلافت عباسیہ کی بنیا درکھی۔علویوں نے اس تغلب کی مخالفت کی اور کہا کہ امام محمد بن عبد اللہ کے ہاتھ پر بطور ” مہدی“ سب نے بیعت کی ہے اس لئے وہ خلافت کے زیادہ مستحق ہیں۔چنانچہ دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور سے اس سوال پر امام محمد بن عبد اللہ کی جنگ بھی ہوئی جس کے دوران امام محمد شہید ہو گئے۔بنو امیہ کے خلاف اس تحریک کے دوران مہدی کی فوری آمد کے نظریہ کو بہت شہرت ملی یہاں تک کہ اُس زمانہ کے مسلم عوام کا یہ مسلمہ عقیدہ بن گیا کہ مہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہو گا۔اتفاق سے دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے اپنے اس بیٹے کو ”المہدی“ کا لقب دے کر اپنا ولی عہد مقرر کیا جو منصور کی وفات کے بعد تخت خلافت پر بیٹھا اور اس مشہو ر روایت کی وجہ سے وہ عوام کی عقیدت کا مرکز بن گیا۔اُس نے اپنے عہد خلافت میں زنا وقہ کے لادینی فتنہ کا استیصال کیا جس نے اُس زمانہ میں بڑی اہمیت حاصل کر لی تھی اور عوام اس فساد سے بڑے تنگ آئے ہوئے تھے۔مہدویت کی اس علوی اور عباسی تحریک کے دوران دو اور روایتوں نے بھی بڑی شہرت پائی۔ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ مہدی کی مدد کے لئے مشرق سے افواج آئیں گی جن کے پاس سیاہ جھنڈے ہوں گے اس روایت کے متعلقہ الفاظ یہ ہیں۔حَتَّى يَأْتِيَ قَوْمٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَ مَعَهُم رَايَاتٌ سُودَ فَيَسْأَلُونَ الخَيْرَ فَيُقَاتِلُونَ فَيُنصَرُونَ حَتَّى يَدْفَعُوهَا إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْنِى - الحديث دوسری روایت جسے اس وقت خاص مقبولیت نصیب ہوئی یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا عباس کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا "اللهم انصُرِ الْعَبَّاسَ وَ وُلدِ الْعَبَّاسَ قَالَهَا ابو مسلم خراسانی کی افواج کے جھنڈوں کا رنگ سیاہ تھا اور بعد میں بنو عباس نے بھی اسی رنگ کو اپنایا۔ابن ماجه کتاب الفتن باب خروج المهدى جلد ۲ صفحه ۲۷۰- مسند احمد جلد ۵ صفحه ۲۷۷ مطبوعه بيروت - مستدرك حاكم مع التلخيص جلد ۴ صفحه ۴۶۴