تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 357 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 357

تاریخ افکا را سلامی ۳۵۷ + لے کر شہر کے پادریوں کو واپس کر دیں اور کہا امن و امان سے رہو اور مخلصانہ اطاعت کو اپنا شعار بناؤ، آپ کے سارے حقوق باقاعدہ ادا ہوتے رہیں گے۔سلطان محمد الفاتح کا قسطنطنیہ پر یہ حملہ کسی ظلم یا جارحیت کی بنا پر نہ تھا بلکہ اس وجہ سے یہ فتح ضروری تھی کہ آغاز اسلام سے ہی قسطنطنیہ کی یہ با زنطینی حکومت مملکت اسلامیہ کے لئے خطرہ بنی رہی جنگ موتہ اور غزوہ تبوک سے اس خطرہ کا آغاز ہوا اور فتح قسطنطنیہ تک مسلمان حکومتوں کے سر پر منڈلاتا رہا قرون وسطی کی صلیبی جنگوں کا مرکز بھی قسطنطنیہ تھا۔ایک اور روایت ہے کہ مہدی کا نام میرے نام کے مطابق اور مہدی کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے مطابق ہو گا۔حد یث کے الفاظ یہ ہیں۔لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمَ لَطَوَّلَ الله ذَالِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَتَ رَجُلًا مِنِى أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْنِي يُوَاطِيُّ اسْمُهُ اسْمِي وَ اسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِى - یہ روایت بھی اگر چہ قوی السند نہیں لیکن اپنی قدیم شہرت کے لحاظ سے مقبولیت کا درجہ پاگئی ہے۔چنانچہ کئی بزرگوں نے اس روایت کے مطابق مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے اور اصلاح امت کا فریضہ سر انجام دیا ہے۔ان میں سے ایک حضرت امام محمد بن عبداللہ بن الحسن المثنى بن الحسن بن علی بن ابي طالب ہیں۔گویا یہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پڑپوتے کے بیٹے اور فاطمی النسل ہیں اور اپنی پاک تَحَرَّمَ اللَّهُ وَ جَهَهُ طینت کی وجہ سے النَّفْسُ الرسميه “ کے لقب سے مشہور ہیں۔حضرت محمد بن الحنفیہ کے بیٹے ابوالہاشم نے بنوامیہ کے ظلم وجور کے خلاف جو ایک خفیہ تنظیم قائم کی تھی جسے بعد میں بڑی اہمیت حاصل ہوئی۔آگے چل کر اس تنظیم کے قائدین نے جن میں علوی اور عباسی دونوں خاندانوں کے بزرگ شامل تھے حضرت امام محمد بن عبد اللہ کے ہاتھ پر انہیں مہدی تسلیم کر کے بیعت کی۔حضرت امام محمد بن عبد اللہ النفس الزكيه اپنے وقت کے صاحب کمال بزرگ تھے حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک وغیرہ اس وقت کے مسلمہ مجتہد اور شرح الترمذي لابن العربي جلد ۹ صفحه ۷۴ مشكوة المصابيح للخطيب التبريزى باب الشراط الساعة ابو داؤد کتاب المهدى - مستدرك حاكم مع التلخيص جلد ۴ صفحه ۴۶۴