تاریخ افکار اسلامی — Page 338
تاریخ افکا را سلامی ۳۳۸ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ وہ صداقت سے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔پس اسی وجہ سے و و صداقت سے محروم نہیں ہوتے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دل پر نقش کر دیا ہے کہ تم لازماً صداقت کا انکار کرو گے بلکہ جرم کے نتیجے میں یہ اُن کو سزا ملتی ہے۔چنانچہ اس مضمون کو خوب کھول دیا لا يؤمنون یہ وہ بھی بھی اس خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان نہیں لائیں گے وقد خَلَتْ سُنَّةُ الأَوَّلِينَ اور ان سے پہلے ایسے لوگوں کی سنت گزر چکی ہے۔جو کسی صورت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرسلین اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان نہیں لائے اور اسی حالت میں وہ ہلاک ہو گئے۔دوسرا پہلو وَ لَو فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ۔بَابًا مِنَ السَّمَاءِ میں یہ مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ ان کا انکار اس وجہ سے نہیں کہ ان کو کوئی نشان نہیں دکھایا جاتا لیکن اس مضمون کے اس حصے کو میں بعد میں بیان کروں گا۔پہلے اس پہلے حصے سے متعلق کچھ مزید باتیں میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا سنت میں دو پہلو ہیں۔پہلوں کی سنت کیا ہے۔وہ جو خود کرتے رہے تحقیر اور استہزاء اور تمسخر۔یہ ایک ان کی سنت ہے اور ایک سنت وہ ہے جو خدا نے اُن پر جاری فرمائی اور وہ اُن کا بد انجام ہے۔اس سے متعلق قرآن کریم میں متعدد آیات ہیں جو اس مضمون کو مختلف رنگ میں کھول کھول کر بیان فرما رہی ہیں جیسا کہ فرما یا قد خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُدَع وہی لفظ سنت ہے جس کی جمع استعمال فرمائی گئی یہاں فرمایا قد خَلَتْ مِن قبْلِكُمْ سَدَنٌ فَسِيرُوا فِي الأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبین لے اس سے پہلے تم سے پہلے لوگوں کی سات تمہارے سامنے گزر چکی ہے اور اس سنت کا ایک حصہ یعنی اُن کی کج روی ، اُن کی بغاوت ، اُن کا منفی یہ سب چیزیں تم پر روشن ہیں لیکن تم زمین پر پھر کے خوب سیر کر کے دیکھو تو سہی کہ اُن کی عاقبت کیسے ہوئی تھی۔ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا تھا۔اس سات میں یہ دونوں با تیں داخل ہیں اُن کی بد اعمالی ، اُن کا انکار اور پھر اُن کا انجام۔چنانچہ سنن کے تابع ان آل عمران: ۱۳۸