تاریخ افکار اسلامی — Page 321
تاریخ افکا را سلامی ۳۲۱ اس کی شکل وصورت اتنی بھیانک اور خوفناک سامنے آئی کہ مذہب کے نام پر خون دین کے نام پر بہتان، بیچ کے نام پر کذب وافتراء اور مقصد براری کے لئے ہر جائز و نا جائز ھر بہ تقاضہ مصلحت بن گیا اور بالکل وہی ہولناک شکل وصورت سامنے آئی جو کارل مارکس کے حسین معاشی نظریات کی عملی تشکیل کے سلسلہ میں لینن اور سٹالن نے دنیا کو دکھائی جس کی دہشت سے سارا عالم کانپ اٹھا۔مودودی صاحب کے فکر و عمل کے بارہ میں یہ تبصرہ کتا بر محل اور صحیح ہے کہ سید مودودی صاحب جب خالص علمی اور فکری نقطۂ نظر سے لکھتے ہیں تو بعض اوقات یوں لگتا ہے جیسے وہ زور تحریر میں بڑے بڑے مفکرین کو پیچھے چھوڑ جائیں گے لیکن دوسرے دقت میں دو اتنی جامد او راتنی خشک ذہنیت کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں کہ قدامت پسند تنگ نظر ملاؤں کی طرح پستی کی انتہا تک جا پہنچتے ہیں۔اس تضاد کی وجہ غالبا یہ ہے کہ فکری اور علمی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ان میں حرص اور کبھی کی راہ کی طرف لے جانے والی تنظیمی صلاحیتیں بھی تھیں۔اس اجتماع مدین نے اُن کی شخصیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔حرص اقتدار اور سیاسی تنظیم کے تقاضے بعض اوقات انہیں جادہ حق سے بھٹکا دیتے اور وہ ہر اُس ظلم و زیادتی اور بہتان تراشی کے لئے دینی جواز تلاش کر لیتے جن سے ان کے تنظیمی اور سیاسی مقاصد کو تقویت طلاق تھی اور حصول مقصد کی خاطر وہ ہر اُس راہ پر چل نکلنے میں کوئی باک یا بچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے جس کے خلاف وہ خود بڑی شدومد سے لکھ چکے ہوتے تھے۔" طوالت کے خوف سے مثالیں پیش کرنا مشکل ہے۔اگر ان کی تحریرات اور ان کے نظریات اور ان کے تنظیمی اقدامات کو یکجائی نظر سے دیکھا جائے تو جگہ جگہ انتشار فکر اور تضاد عمل کے نمونے بکھرے پڑے نظر آئیں گے۔۱۹۴۵ء سے پہلے کے ان کے افکار اور پاکستان بننے کے بعد کے ارشادات تضاد بیانی کے نادر نمونے پیش کریں گے۔اسی طرح بمطابق الوَلَدُ سِر لابيه۔۔۔۔مودودی صاحب کی تربیت یافتہ جماعت اسلامی کی موجودہ سرگرمیوں سے بھی اس قسم کے عملی اور فکری تضادات کے واضح نشان مل سکتے ہیں۔دیدہ حق بین کی ضرورت ہے۔