تاریخ افکار اسلامی — Page 320
تاریخ افکا را سلامی خدمات کا انکار ممکن نہیں۔اس سلسلہ میں ان کی بصیرت قابل قدرادران کی نظر بڑی وسیع تھی۔بہر حال دیوبندی گروه حنفیت کی تائید کی وجہ سے برصغیر کے عوام کے ساتھ ملا جلا رہا اور اس کی طرف سے اشاعت حدیث کی کوششیں بھی خاصی مقبول رہیں اور مدرسہ دیوبند کی مرکزیت کی وجہ سے اس کے اثر کو ایک حد تک ثبات ملا۔ندوۃ العلماء لکھنؤ کی تحریک علی گڑھ اور دیوبند کی تحریکات سے متاثر ہو کر اسی زمانہ میں ایک اورادارہ منصہ شہود پر ابھرا۔یہ ادارہ مولانا شبلی نعمانی مرحوم کی قیادت میں ندوۃ العلماء لکھنو کے نام سے مشہو ر ہوا۔اس ادارہ کا دعوئی تھا کہ اس کے ذریعہ قدیم وجدید عقل و نقل دونوں اہلیتوں کے حامل علماء پیدا کئے جائیں گے تا کہ مغربی تہذیب کے طوفان کا مقابلہ کیا جا سکے لیکن چونکہ خود مولانا شبلی کا زیادہ تر رجحان ادب و تا ریخ کی طرف تھا اس لئے یہ ادارہ تاریخ وادب کی خدمت سے آگے نہ بڑھ سکا اور فکری اور عملی لحاظ سے وہ نتائج مرتب نہ ہو سکے جس کے حصول کا دعویٰ کیا گیا تھا۔جماعت اسلامی مذکورہ با لاعلمی اور فکری تحریکات اور دوسرے فروغ پذیر فلسفہ ہائے زندگی خاص طور پر کمیونزم سے متاثر ہو کر برصغیر میں سیدابوالاعلیٰ صاحب مودودی کی جماعت اسلامی اور عرب ممالک خاص طور پر مصر میں الاخوان المسلمون کی تنظیموں نے جنم لیا۔اخوان المسلمین کے قائد دراصل جماعت اسلامی سے ہی متاثر تھے۔اس لئے یہ دونوں تنظیمیں اپنے فلسفہ اور طریق کار کے لحاظ سے ایک ہی تحریک کے دو رخ ہیں۔برصغیر میں جماعت اسلامی کی تنظیم زیادہ تر اہل حدیث اور دیوبندی مکتبہ فکر کے افراد پر مشتمل ہے او رمذ ہب و سیاست کے نام پر قائم اس تنظیم کے اصل قائد ، بانی اور روح رواں سید ابوالاعلی صاحب مودودی تھے۔مودودی صاحب نے اسلام کے نام پر بعض معاشی، اقتصادی اور سیاسی نظریات کو ایک نئے انداز میں پیش کیا اور اپنے پر زور مضامین او را دب کی چاشنی لئے ہوئے مقالات کے ذریعہ مغربی تعلیم یافتہ افراد کے ایک حصہ کو خاصہ متاثر کیا لیکن مودودی صاحب کے نظریات و خیالات میں اتنا واضح تضاد ہے کہ اس کی کوئی صحیح تو جیہ ممکن نہیں۔چنانچہ جب ان کے حسین نظریات نے عملی تشکیل پائی تو