تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 14 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 14

تاریخ افکا را سلامی اختلاف جلد رفع ہو گیا۔ایک اور اختلاف یہ سامنے آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائے۔بعض نے کہا مکہ لے جا کر دفن کیا جائے کیونکہ آپ وہاں پیدا ہوئے وہاں مبعوث ہوئے وہاں ہی آپ کا خاندان بستا ہے اور قبلہ بھی وہیں ہے اور آپ کے دادا حضرت اسماعیل کی قبر بھی وہاں ہے۔انصار نے کہا کہ چونکہ مدینہ آپ کا دارالہجرت ہے اسے آپ نے اپنا مسکن بنایا ہے اور یہیں آپ کے انصار رہے ہیں اس لئے آپ یہیں دفن ہوں۔بعض نے کہا کہ بیت المقدس لے جا کر آپ کو وہاں دفن کیا جائے کیونکہ وہاں آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم اور دوسرے متعدد انبیاء کی قبریں ہیں۔یہ اختلاف بھی حضرت ابو بکر کی مداخلت سے جلد ختم ہو گیا۔آپ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں میری وفات ہو و ہیں تدفین ہو۔ای الانبياء يُدْفَنُونَ حَيْثُ يُقْبَصُونَ اس موقع پر صحابہ رضوان الله تعالی علیهم اجمعین کے سامنے یہ اختلاف بھی آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین کون ہو؟ انصار کا خیال تھا ہم سے جانشین مقر رکیا جائے یا دو جانشین ہوں اس کے لئے انہوں نے سید الخزرج سعد بن عبادہ کا نام پیش کیا۔بنو ہاشم میں سے بعض نے کہا کہ قرابت کے لحاظ سے جانشینی ہمارا حق ہے اور اس کے لئے حضرت علی اور حضرت عباس کے نام لئے گئے آخر کار حضرت ابو بکر کی تقریر اور ان کی طرف سے یہ روایت پیش کرنے پر کہ " الأئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشِ انصار نے اپنا مطالبہ واپس لے لیا تے اور ہاضمیوں نے بھی اپنے مطالبہ پر اصرار نہ کیا اس طرح سب صحابہ نے باہمی اتفاق سے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضور ﷺ کا جانشین منتخب کر لیا اور آپ کی بیعت کرنے میں اپنی سعادت کبھی اس طرح ایک لیے عرصہ تک کے لئے یہ اختلاف بھی دب گیا۔کے بخاری کتاب المناقب، فضل ابي بكر ، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم " لَوْ كُنتُ متَخِنَا خَلِيلا : الفرق بين الفرق مفر١٢ سے اس روایت پر شیعہ کی طرف سے جو تنقید کی گئی ہے اس کے لئے دیکھیں ”تاریخ الفرق الاسلاميه صفحه ۱۱ تا ۳۰ و ۱۴۷ بخارى كتاب المناقب باب فضل ابى بكر الفرق بين الفرق صفحه ١٣،١٢