تاریخ افکار اسلامی — Page 15
تاریخ افکا را سلامی ۱۵ مانعین زکوۃ سے جنگ کے جواز کے بارہ میں بھی معمولی اختلاف کا اظہار کیا گیا لیکن اسے کوئی خاص اہمیت نہ ملی بہر حال اس قسم کے اختلافات سامنے تو آئے اور تاریخ نے ان کو ریکارڈ بھی کیا لیکن مسلمانوں کے اتحاد میں ان سے کوئی رخنہ نہ پڑا اور حضرت ابو بکرم اور حضرت عمرہ کے دور خلافت میں مسلمانوں میں مثالی اتحاد قائم رہا۔حضرت عثمان کے دور خلافت کے پہلے نصف میں بھی یہی صورت حال رہی تمام مسلمان اتحاد کا کامل نمونہ بن کر بُنیان مرصوص کا انداز اختیار کئے رہے۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے نصف آخر میں بعض عمال حکومت کے طرز عمل پر تنقید کا آغاز ہوا جس نے آہستہ آہستہ بڑی شدت اور وسیع شورش کی صورت اختیار کر لی اور آخر الا مر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت پر بیج ہوئی۔اس حادثہ فاجعہ کے بعد یہ اختلاف اٹھ کھڑا ہوا کہ خلیفہ وقت کے قاتلوں سے کیسے اور کب قصاص لیا جائے۔نیز آپ کے جانشین یعنی خلیفہ رابع کو کیسے منتخب کیا جائے۔یہ اختلاف بڑھا اور خون ریزیوں کا باعث بنتا رہا اور آج تک اس کے اثرات باقی ہیں۔شیعہ اسی اختلاف کی پیداوار ہیں اور اس لحاظ سے تفرقہ کا پہلا میچ میں لے ای دوران تحکیم یعنی حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ کے تنازع کو دور کرنے کے لئے حکم مقرر کرنے کے فیصلہ نے ایک نیا جھگڑا کھڑا کر دیا جو بالآخر حضرت علی کے خلاف بغاوت کا رنگ اختیار کر گیا۔خوارج اسی تنازع کی پیداوار ہیں ہے۔اس کے بعد اعتقادی اور نظریاتی اختلاف اٹھے جن کی وجہ سے مسلمان یا بالفاظ صحیح اسلام کے مدعی ایسے مجے، ایسے بکھرے کہ اقوام عالم کے لئے آج تک نشان عبرت بنے ہوئے ہیں اور ان کے فرقوں کی تعداد بہتر سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور ہزار کوشش کے باوجود ان کے اتحاد و اتفاق کا خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔الفرق بين الفرق۔صفحه ۱۴ الفرق بين الفرق۔صفحه ۱۵