تاریخ افکار اسلامی — Page 13
تاریخ افکا را سلامی مسلمانوں میں اختلافات کا آغاز گل ہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معا بعد امت مسلمہ میں بعض معمولی اختلافات اٹھے لیکن جلد مٹ گئے اور امت کو ان کی وجہ سے کسی مشکل یا پریشانی سے دوچار نہیں ہونا پڑا۔اس قسم کے اختلافات کی چند مثالیں درج ذیل ہیں :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ اختلاف سامنے آیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے ہیں یا نہیں۔بعض کہتے تھے کہ آپ فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت عیسی کی طرح آسمان پر چڑھ گئے ہیں آپ دوبارہ آئیں گے اور منافقین کو ختم کریں گے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو جب اس قسم کی چہ میگوئیوں کا علم ہوا تو آپ گھر سے آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور پھر کہا کہ اللہ تعالی آپ پر دو موتیں بھی وارد نہیں کرے گا یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ اس دنیا سے جائیں اور ساتھ ہی آپ کا لایا ہوا دین بھی مٹ جائے اور آپ کی امت اختلافات کا شکار ہو جائے۔پھر آپ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے جو اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ آپ فوت ہوئے ہیں یا نہیں۔اس موقع پر آپ نے ان لوگوں کے سامنے یہ آیات پڑھیں۔وما محمد إلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَين مات أو قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ (الآية إنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ فَيَتُونَ (الاية) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیات پڑھیں اور اعلان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واقعی فوت ہو گئے ہیں اور کوئی نبی بھی اس جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں گیا تو سب کی آنکھیں کھلیں اور اختلاف کرنے والوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا غرض حضرت ابو بکر کی بر وقت مداخلت سے یہ ال عمران: ۱۴۵ الزمر : ٣١