تاریخ افکار اسلامی — Page 303
تاریخ افکا را سلامی الْجَبرِیہ اور اس کے نظریات جبریہ بھی اپنے طرز استدلال اور بی فکر کے لحاظ سے معتزلہ میں ہی شمار ہوتے ہیں لیکن معتزلہ کا یہ حصہ قدر کی بجائے جبر کا قائل ہے یعنی اس فرقہ کا نظریہ یہ ہے کہ انسان اپنے افعال اور اعمال میں خود مختار نہیں بلکہ وہ مجبور محض ہے۔خدا جس طرح چاہتا ہے اُس سے کرواتا ہے کالا نسَانُ عِنْدَهُمْ لَيْسَ بِقَادِرٍ عَلَى أَفْعَالِهِ بَلْ فِي اخْتِيَارِ اللَّهِ يُقَلِّبُهُ كَيْفَ يَشَآءُ - جبریہ کے مندرجہ ذیل ضمنی فرقے ہیں۔الجهميه، النجاريه البكريه، الضَّرَاريه الْجَهْمِیہ اور اُس کے نظریات ید فرقہ جہم بن صفوان کا پیر د تھا۔جھم مشہور آزاد مفکر جعد بن درہم کا شاگر د تھا۔کہا جاتا ہے کہ جهم بڑافتنہ پرداز، زانی انتشار پھیلانے میں ماہر اور شاطر قسم کا عالم تھا۔یہ پہلا معتزلی ہے جس نے خلق قرآن کا عقیدہ ایجاد کیا۔جھم جبر کا بھی قائل تھا یعنی اُس کا یہ نظر یہ تھا کہ انسان مجبور محض ہے۔اللہ تعالی کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہے يُقَلِّبُهُ كَيْفَ يَشَاء۔جھم کے نزدیک جنت و دوزخ فانی ہیں وہ کہا کرتا تھا اِنَّ الجَنَّةَ وَالنَّارَ تَبَيَّدَانِ وَتَقْنِيَان - وه یہ بھی کہتا تھا کہ اللہ تعالی کا علم حادث ہے اس بارہ میں اس کا یہ نظر یہ بھی تھا کہ جس وصف سے دوسرے متصف ہو سکتے ہیں و ہ اللہ تعالیٰ کا وصف نہیں ہو سکتا۔اس لئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللهُ حَيٍّ، عَلِيمٌ عَالِمٌ سَمِيعٌ بَصِيرٌ، مَوْجُودَ مُرید۔البتہ یوں کہہ سکتے ہیں اللهُ قَادِر، مُوجِدٌ، خَالِقَ مُحَي وَ۔میت کیونکہ یہ اد صاف اللہ کے سوا کسی دوسرے میں نہیں پائے جاتے۔جہم سیاست میں بھی سرگرم حصہ لیتا رہا۔بنو امیہ کے خلاف کئی جنگوں میں شامل ہوا اور آخر انہی جنگوں میں مارا گیا۔جھم نے صغار تا بعین کو دیکھا تھا اس لئے اس کا شمار تبع تابعین میں کیا گیا ہے۔علامہ بغدادی نے لکھا ہے کہ آج کل جھم کے پیرو نہاوند میں پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر اسمعیل بن ابراہیم الدیلی کی تبلیغ سے اہل السنت میں شامل ہو گئے ہیں لیے ا۔الفرق بين الفرق ایڈیشن چهارم ۲۰۰۳ء دار المعرفة بيروت صفحه نمبر ۱۹۴، ۱۹۵