تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 304 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 304

تاریخ افکا را سلامی ۳۰۴ النَّجَارِيَّه اور اُس کے نظریات یہ فرقہ حسین بن محمد النجار کا پیر تھا۔نجار بہت بڑا قابل مناظر تھا۔اُس نے نظام معتزلی کے ساتھ کئی کامیاب مناظرے کئے۔بعض مسائل میں یہ اہل السنت کے ساتھ متفق تھا اور بعض میں معتزلہ جبریہ کے ساتھ مثلاً اس کا عقیدہ تھا کہ افعال العباد کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اکتساب بجائے خود ایک فعل ہے۔کائنات میں وہی کچھ ہوتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرے اور جو چا ہے۔وہ یہ بھی مانتا تھا کہ گنہگار کی مغفرت ہو سکتی ہے۔یہی بات اہل السنت بھی مانتے ہیں۔معتزلہ کے نظریات میں سے مندرجہ ذیل نظریات کو نجار درست مانتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کوئی الگ چیز نہیں بلکہ عین ذات ہیں۔ان آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی رویت ممکن نہیں۔کلام اللہ ایک حادث وصف ہے۔۔مندرجہ ذیل باتوں میں نجار کا الگ خاص مسلک تھا الْإِيْمَانُ يَزِيدُ وَلَكِنْ لَا يَنقُصُ جبکہ محدثین کہتے ہیں الْإِيْمَانُ يَزِيدُ وَيَنْقُصُ اور امام ابوحنيفہ اور آپ کے بعض پیرووں کا نظریہ یہ ہے کہ الإِيمَانُ لَا يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ - نجار کے نزدیک اعراض کی دو قسمیں ہیں۔ایک وہ جو جسم کا حصہ اور اس کی جز ہیں مثلاً رنگ، بو اور مزہ (اللون الرائحة وَالطَّعم ) یہ اللہ تعالیٰ کے مقدور نہیں بلکہ طبعی ہیں۔دوسری قسم کے اعراض وہ ہیں جو کبھی ہوتے اور کبھی نہیں ہوتے مثلا علم ، جہالت، حرکت سکون، قیام، قصور۔اس قسم کے اعراض جسم کا حصہ اور اس کی جز نہیں اس لئے وہ مقدور ہیں۔نجاریہ کے کئی ضمنی فرقے تھے مثلا بَرْعُونِيهِ، زَعْفَرَانِيه وغيره - البرغوتيه اور اُس کے نظریات البرغوثیہ کے نزدیک طبعی افعال بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اُس کے اختیا ر سے ہیں۔اہلِ سنت کا بھی یہی عقیدہ ہے جبکہ معتزلہ کہتے ہیں کہ طبعی افعال کا تعلق صرف جسم کی طبیعت سے ہے مثلا اگر کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف گرتی ہے تو معتزلہ کے نزدیک یہ جسم کا طبعی تقاضا ہے لیکن ہر خوشید اور اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اُسے نیچے کی طرف گرایا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو مارتا ہے