تاریخ افکار اسلامی — Page 301
تاریخ افکا را سلامی اور بنو کنانہ اور بنو عدنان کی بجو اور مذمت۔اسی طرح اس نے ایک ایسی کتاب بھی لکھی جس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ مجھی عربوں سے افضل ہیں مثلاً اس کی ایک کتاب کا نام ہے مَفَاخِرِ الْقَحْطَانِيَّة عَلَى الْكَنَائِيَّةِ وَ سَائِرِ الْعَدْنَانِيَّةِ اور اُس کی دوسری کتاب کا نام ہے فَضْلُ الْمَوَالِي عَلَى الْعَرَب - پس کیا کوئی شخص اپنے آباء و اجداد کی مذمت کر سکتا ہے۔جاحظ کی بعض دوسری کتا میں بھی اسی قسم کی لغویات سے پر ہیں مثلا جمل اللصوص، حِيل الْمُكِدِّين، غِضُّ الصَّنَاعَاتِ الْقِحَابِ وَ الْكِلابِ وَغَيْرُها مِنَ الْكُتُبِ جاحظ کا خاص نظریہ یہ تھا کہ انسان کے جملہ افعال اُس کے طبعی تقاضے ہیں۔اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر انسان کو سزا کیوں کر مل سکتی ہے ؟ کیا کسی انسان کو اس بنا پر سزا دی جاسکتی ہے کہ وہ کالا کیوں ہے، وہ لمبا کیوں ہے ، وہ موٹا کیوں ہے؟ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ لَا يُثَابُ وَ لَا يُعَاقَبُ عَلَى مَا لَا يَكُونُ كَسُبًا لَهُ الكعبيه اور اُس کے نظریات یہ فرقہ ابو القاسم عبد الله الكعب البلخی کا پیرو تھا۔کبھی کا یہ نظر یہ تھا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فلاں کام کا ارادہ کیا تو یہ ایسے ہی ہے جیسا قرآن کریم میں آیا ہے۔جدار بريد ان ينقض یعنی اس قسم کے استعمالات مجاز اور استعارات ہیں۔نظام معتزلی کا بھی یہی نظر یہ تھا جبکہ باقی سب معتزلہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ایک حقیقت موثرہ ہے تا ہم وہ حادث ہے۔اہل السنت کے نزد یک اراده الله ایک حقیقت بھی ہے اور ازلی ابدی بھی ہے الْجَبَائِيَّہ اور اُس کے نظریات یہ فرقہ ابو علی الجبائی کا پیرو تھا۔ابو علی کا خاص نظریہ یہ تھا کہ اللہ تعالی کی ایک صفت مطیع بھی ہے یعنی و داپنے بندوں کی اطاعت کرتا ہے، اُن کے کام کرتا ہے اور ان کی دُعائیں قبول کرتا ہے اور مطیع کے یہی معنے ہیں کہ مَنْ فَعَلَ مُرَادَ غَيْرِهِ۔اسی طرح وہ یہ بھی مانتا تھا کہ اللہ تعالی کی ایک صفت مُخبل ہے یعنی وہ عورتوں کو حاملہ کرتا ہے۔علامہ بغدادی اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ تو الفرق بين الفرق صفحه ۱۳۰ الفرق بين الفرق صفحه ۱۳۴ الفرق بين الفرق صفحه ۱۳۰