تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 11 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 11

تاریخ افکا را سلامی بنو امیہ نے یہ پالیسی اختیار کی تھی کہ اہل بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرومنزلت کو لوگوں کے دلوں سے نکالنے کے لئے خطبات جمعہ وغیرہ میں حضرت علی اور دوسرے ائمہ اہل بیت کے خلاف ہرزہ سرائی کی جائے اس کا رد عمل یہ ہوا کہ بنو امیہ جن کو بزرگ مانتے تھے اور جن کا احترام کرتے تھے ان کو مدعیان محبت اہل بیت برا بھلا کہنے لگے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کے خلاف جو نفرت پھیلائی گئی اس کی ایک وجہ مخالف عناصر کا یہی رد عمل تھا بہر حال اس قسم کی غلط سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے دینی معاشرہ کمزور ہوتا چلا گیا اور شر کو شہ ملی ، دھڑے بندیوں اور تفرقہ بازیوں کے دور کا آغا ز ہوا۔فرقہ پرستی اور دھڑے بندی کی ایک اور مؤثر وجہ یہ تھی کہ اقتدار کی منتقلی کے اصول و ضوابط معین ، مرتب اور متفق علیہ نہ تھے اور نہ ہی کوئی ایسا مسلّمہ نظام جاری ہوا تھا جس کے تحت انتقال اقتدار کے اصول و ضوابط میں ترمیم و اصلاح کا عمل جاری و ساری رہتا اس لئے جب کسی کو کوئی خرابی نظر آئی تو خیر واپس لانے کے لئے شر کو ذریعہ بنا یا گیا اور وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ شر ے تو شر ہی پیدا ہوتی ہے۔بدی بدی کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔خیر کے لئے تو خیر کے راستوں کی ضرورت ہے۔خلافت اسلامیہ یا دوسرے لفظوں میں خلافت على منهاج النبوة جواتحاد اسلامی کا حقیقی مرکز تھی۔اس کی اہمیت اور اس کی برکات کا احساس مدھم پڑ گیا۔اس کے احترام اور اس سے لگاؤ میں کمی آگئی اور یہ مجھے لیا گیا کہ غلبہ اور اقتدار قیادت اور سیادت تو ان کا موروثی حق ہے اس غلط سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ باغی ذہن میں خلافت کی ہتک کی جرات ابھرنے لگی اور شریر عناصر گستاخیوں میں شیر ہونے لگے جس کی وجہ سے خلفاء کی شہادت تک نوبت پہنچ گئی اور وہ تلوار جو نظام خلافت کی حفاظت کے لئے اٹھنی چاہئے تھی مسلمانوں کی گردنیں کاٹنے کے لئے نیام سے باہر آئی اور پھر وہ آپس میں ہی الجھ کر رہ گئے۔فرقہ پرستی کے فروغ کی ایک اور وجہ اختلافات کو برداشت کرنے کے حوصلہ کا فقدان تھا۔دلیل کی بجائے تشدد اور تلوار سے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور یہ نہ سمجھا گیا کہ تلوار