تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 10 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 10

جذبہ اطاعت کو اور زیادہ مستحکم کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہاں شورش کے امکان کم سے کم ہو گئے۔حضرت امیر معاویہ کا دینی کردار خواہ کیسا ہی زیر تنقید رہا ہو ان کا سیاسی کردار خاصہ مضبوط اور تقاضہ حالات کے مطابق تھا۔سیاسی جوڑ توڑ، وفاداریاں خریدنے اور جاسوسی نظام سے پورا پورا اور ++ ہر وقت کام لینے میں وہ بڑے ماہر تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے زیر اقتدار مرکزی حصہ یعنی شام میں ہمیں ان کے خلاف کوئی قابل ذکر سر گر می نظر نہیں آتی۔اس کے بر عکس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جس علاقہ کو اپنا مرکز بنایا تھا وہ شورشوں اور بغاوتوں کا گڑھ بنا رہا۔آپ کے ہاں جو سیاسی یا فوجی عناصر تھے ان میں ایک خاصی تعداد ان لوگوں کی تھی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت اور شورش پھیلانے میں پیش پیش رہے تھے۔تنقید ، شورش پسندی اور فتنہ انگیزی ان لوگوں کے منہ کو لگ گئی تھی اور وہ بات بات پر بھر جاتے تھے۔خلافت کا رُعب او را دب واحترام ان کے ذہنوں سے نکل چکا تھا اس پر مستزاد یہ کہ حضرت علی کے بعض حامی عناصر امیر معاویہ کے ہاتھوں بک گئے تھے چنانچہ تحکیم کی تجویز کو قبول کرنے پر حضرت علی جو مجبور ہوئے تو اس کی وجہ انہی خریدے ہوئے عناصر کا اصرار تھا ورنہ حضرت علی اس کے حق میں نہ تھے۔B حضرت علی کے حامی عناصر میں موالی یعنی عراقی اور خراسانی نو مسلموں کی بھی بڑی بھاری تعدادتھی جو اسلام اور حق کی حمایت میں نہ اتنے پُر جوش تھے اور نہ اتنے با ہمت۔بعض اوقات وہ عین وقت پر دل چھوڑ بیٹھتے تھے اور اپنے امام کو میدانِ جنگ میں یک و تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے۔حضرت علی کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔جو قو می اموال میں خیانت کرتا ہے اسے معاف نہ کیا جائے۔معاش میں وہی طریق مساوات اختیار کیا جائے جو آنحضرت ﷺ اور پہلے خلفاء نے اختیار کیا تھا۔آپ استحصال اور وفاداریاں خریدنے کے سخت خلاف تھے ایسے حالات میں مفاد پرست اور ترجیح کے خواہشمند عناصر آپ کے مخلص نہ رہے۔ان کی وفاداری کمزور پڑ گئی تھی۔یہ لوگ من مانی کرنے کے لئے طرح طرح کی حیلہ سازیاں کرتے۔اسلام اور محبت اہل بیت کی آڑ لے کرنا واقف لوگوں میں اپنے فاسد خیالات پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے۔++