تاریخ افکار اسلامی — Page 12
زبان تو بند کر سکتی ہے دل کے اندر کے خیالات اور نظریات پر بند نہیں باندھ سکتی۔ذہن کی تبدیلی کے لئے مضبوط دلائل اعلیٰ اخلاق اور عمدہ نمونہ کی ضرورت ہوتی ہے تلوار کی نہیں۔یہ تھے وجو ہات اور کوائف جو بالعموم تفرقہ بازی اور فرقہ پرستی کے فروغ کا سبب بنے اور جن کی وجہ سے امت مسلمہ کا مثالی اتحاد پارہ پارہ ہو گیا اور کام کی باتوں کی بجائے طرح طرح کے لخو نظریات اور مافوق الطبعیات مباحث کی دلدل میں مسلم معاشرہ پھنس کر رہ گیا ، قدم رک گئے۔فتوحات میں وہ تیزی نہ رہی جو خلافت راشدہ کے دور میں دیکھی گئی تھی۔تا ہم اس سب کچھ کے با وجود اہل حق باطل کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔اسلام کی اشاعت کا عمل جاری رہا۔گو رفتار کچھ ست پڑ گئی لیکن جیسا کہ آئندہ صفحات سے ظاہر ہو گا کہ غلبہ حق کو ہی حاصل رہا اور بڑی بھاری اکثریت جادۂ حق پر قائم و دائم رہی اور حسب وعدہ اللہ تعالی اسلام کی حفاظت اور اس کی اشاعت کے لئے مصلحین اور مجددین کو بھیجتارہا اور اب ہم اس دور میں داخل ہو رہے ہیں جو تکمیل اشاعت اسلام اور لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه کا دور ہے۔اللَّهُمَّ انصُرُ مَنْ نَصَرَ دِينَ مُحَمَّد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِينَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْهُم ل إِنَّ الْعِرَاقِينَ لَمْ يُقَالُوا فِي حُبِّ مُحَمَّدٌ كَمَا قَالُوا فِي حَبِّ عَلِي لَانَّ حُبُّ مُحَمَّدِ لَمْ يَكُنَ مُحَرَّمًا عَلَيْهِمْ فَقَدْ كَانَ حَكَامُهُمْ يَشْتَرِكُونَ مَعَهُمْ فِيهِ بِخَلافِ حَب عَلِي فَإِنَّهُ كَانَ مُحَرَّمًا عَلَى الشَّيْعَةِ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ (مهزلة العقل البشري صفحه ۶ (ملخصا) ڈاکٹر على الوردي مطبع الرابطه بغداد عراق ، طبع (۱۹۵۵ء)