تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 270 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 270

تاریخ افکارا سلامی 12 + ہدایت کے مطابق کام کرتے۔یہ داعی قاہرہ کے پڑھے ہوئے اور قلعہ الموت کے تربیت یافتہ ہوتے تھے لیے ان کی اس قابلیت کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا تھا کہ وہ تشکیک اور تفلیس کے طریق میں ماہر ہوں اور مختلف لوگوں کی نفسیات سے واقفیت رکھتے ہوں چوتھا درجہ الرفاق " کا تھا جن کے ذمہ داعی تیار کرنا تھا ان کی شرط یہ تھی کہ وہ فلسفہ منطق اور فقہ کے ماہر ہوں اور داعی کی علمی تربیت کر سکیں۔پانچواں درجہ الف کاویہ کا تھا جن کے ذمہ خفیہ طور پر دشمنوں کو قتل کرنے کا فریضہ تھا جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے ہے۔چھٹا درجه اللاصفون " کا تھا۔ان کے ذمہ صرف یہ فریضہ تھا کہ وہ عوام کو عمومی طور پر کسی گہرائی میں جائے بغیر دعوت واریہ سے مانوس کریں اور اُن سے عہد وفاداری لینے کی کوشش کریں۔ساتواں درجہ المُسْتَجيبون " کا تھا لیتی عوام جود عوت نزاریہ سے مانوس ہیں یا نئے نئے ابتدائی مومن ہیں لیکن لوگوں کے عقائد میں تزلزل اور جستجو پیدا کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔بہر حال باطنی تحریک کے یہ کا رکن تفرس ، تنیس، تشکیک تعلیق ، مدلیس، تأسیس اور تخلیع کے مختلف ذرائع سے کام لے کر اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کرتے اور لوگوں کو شکار کرنے کا فریضہ سرانجام دیتے تھے۔عباسی خلفاء اور اُن کے اُمراء نے الحسن الصباح کی دہشت پسند باطنی تحریک کو ختم کرنے کے لئے کئی مہمیں بھیجیں، خون ریز لڑائیاں بھی ہوئیں لیکن اس تحریک کا استیصال نہ کیا جا سکا۔الحسن قریباً پینتیس سال تک خلافت عباسیہ کے لئے خوف و ہر اس کا باعث بنا رہا اور جب وہ ۵۱۸ھ میں فوت ہوا سے تو اس يتلقون العلم في مدارس القاهرة ثم ينتقلون الى الموت ليتعلموا اسرار الدعوة واشترط الحسن الصباح في الداعي ان يكون بارعا في التشكيك وماهرًا في التلبيس ليخدعوا العامة ويدخلهم في عقيدتهم (تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٣٦٩) يشترط فيه التفانى فى طاعة الرئيس۔۔۔۔۔فاصبحوا آلات الانتقام فتاكة وخلفوا عصرا مليا بالخوف والفريح وكانوا يتصفون بالشجاعة النادرة والصبر ويشترطون أيضًا أن يجيدوا عدة لغات (نفس المصدر صفحه ۳۶۹) ويؤتى بها اطفالا الى منازل المقدمين والدعاة فَيُرَبُّونَ منذ الحداثة على مبادى المخاطرة والتضحية المطلقة (الجميعات السرية صفحه ۵۳) وفي رواية صفحه ۵۳۰ - و في روايته قتله ابنه محمد (الجميعات السرية صفحه ۵۱ و ۵۴)