تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 269 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 269

تاریخ افکارا سلامی رکھ کر پھر سے بذریعہ عمل تنویم ان کو با ہر لایا جا تا اور کہا جاتا یہ تو ایک عارضی نظارہ تھا جب تم امام کے حکم کی تعمیل میں اپنی جان قربان کرو گے تو پھر دائمی طور پر ان جنتوں میں تمہارا ٹھکانہ ہو گا۔غرض اس طرح کے مختلف طریقوں سے کام لے کر الحسن نے جو دہشت گردی کی نفسیات کا ماہر تھا فدائیوں کے ایسے گروہ تیار کئے جنہوں نے اُس زمانہ کے بڑے بڑے علماء، قابل امراء اور عسکری قائدین کوموت کی نیند سلا دیا اور وہ خود بھی بزاری تحریک پر فدا ہو گئے لیے ملک شاہ سلجوقی کے انتہائی قابل وزیر اور مدرسہ نظامیہ بغداد کے بانی نظام الملک طوسی بھی اسی قسم کے ایک فدائی کے ہاتھوں شہید ہوئے کیونکہ انہوں نے احسن کی تحریک کو کچل دینے کا عزم کیا تھا۔۔فدائیوں کے علاوہ چھاپہ مار جنگ میں مہارت رکھنے والوں کا بھی ایک گردہ تیار کیا اور بعض لڑاکا قبائل کے جوانوں کو جنگ کی تربیت دی گئی۔ان تیاریوں کے بعد الحسن کھلے بندوں خلافت عباسیہ اور اُس کے امراء اور عسکری قائدین کے سامنے ڈٹ گیا۔الحسن خود ایک مضبوط قلعہ میں رہائش پذیر تھا جس کا نام قلعة الموت تھا۔سے اُس کے ارد گرد اور دو رو نز دیک اُس نے سینکڑوں قلعے بنوائے اور اُن کے ذریعہ جنگی کارروائیوں کا آغا ز کیا۔الحسن کا لقب شَيْعُ الجَبَل رَئيسُ الدَّعْوَة اور دَاعِيُّ الدعاة تھا اُس کے احکام امام کے احکام کے طور پر ہر طرف جاتے اور اُن کی تعمیل ہوتی نا ئب الامام اور شیخ الجہل کے بعد خاص کام کرنے والے گروہوں میں دوسرا درجہ كبار الدعاة کا تھا۔یہ تین ہوتے تھے جو تین اقلیموں میں تقسیم شدہ دنیا میں ہر اقلیم کے ذمہ وار قرار دیئے گئے تھے الحسن کے زمانہ میں گیا بز رگ امید، الحسین القینی اور ابو طاہر بطور كميير الدعاۃ کام کرتے تھے اور بڑی شہرت کے مالک اور الحسن کے بڑے معتمد تھے۔تیسرا درجہ دُعاۃ کا تھا جو الحسن کی مقرر کر وہ دنیا کے تینوں اقلیموں میں شیخ الجبل اور کبار الدعاة کی لے ایک دفعہ سلجوقی سلطان نے الحسن کو پیغام بھجوایا کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور اطاعت قبول کرے جو قاصد یہ پیغام لایا تھا اُس کے سامنے اس نے دو فدائیوں کو بلوایا ایک سے کہا کہ وہ اپنے پیٹ میں تنجر گھونپ لے اور دوسرے کو کہا کہ وہ قلعہ پر سے نیچے کو دجائے۔دونوں نے حکم کی تعمیل کی اور اپنی جانیں قربان کر دیں۔اس کے بعد اُس نے قاصد کو کہا اپنے آقا سے جا کر کہنا تطيعني هكذا سَبعون ألفا (الجميعات السرية صفحه ۵۰) الجميعات البرية صفحه ٢٨ وهي من امنع القلاع في شمال فارس - الجميعات البرية صفحه ۳۸)