تاریخ افکار اسلامی — Page 8
تاریخ افکا را سلامی۔آن میں تہس نہس ہو گئیں ان تہذیبوں کے پروردہ بعض عناصر مغلوب ہو کر بظاہر مسلمان ہو گئے لیکن اندر سے وہ عمداً یا لاشعوری طور پر اپنی تہذیب و ثقافت کے دلدادہ تھے۔اس طرح اس خلفشار کے دور میں یہ عناصر وہاں کے یہود۔مجوس اور نصاری سے مل کر اسلامی اتحاد میں دراڑیں ڈالنے میں سرگرم عمل ہو گئے۔آغاز میں اسلام کی مساوات کی تعلیم سے متاثر ہو کر عرب قبائل کی عصبیت دب گئی تھی لیکن بنو امیہ کے زمانہ میں اس عصبیت کے عفریت نے دوبارہ ابھرنے کی کوشش کی۔بنو ربیعہ کے قبائل ، مصری قبائل کے پرانے دشمن رہے ہیں بنو ربیعہ کی یہ رقابت مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔مسیلمہ کذاب کی بغاوت اسی رقابت کا ایک ابتدائی پر تو تھا کیونکہ بنو حنیفہ ربیعہ کی ہی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔بعد ازاں یہی رقابت تاریخ کے مختلف ادوار میں اپنا رنگ دکھاتی رہی ہے۔خود بنو امیہ بھی عصیت کے دلدادہ تھے جس کی وجہ سے بنو امیہ اور بنو ہاشم کی پرانی رقابت اُبھر آئی۔لے مسلمانوں کے اقتدار نے بلحاظ معیشت اور اصول حکمرانی ابھی استحکام حاصل نہیں کیا تھا۔اخلاقی اقدار کو بھی پوری وسعت میسر نہیں آئی تھی۔با اخلاق عناصر غالب نہیں رہے تھے۔اسی طرح اسلامی تعلیم کے مراکز ابھی تک وسیع اور مستحکم نہیں ہوئے تھے اس لئے جو مجھمی عناصر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت کے آخری دور میں یا اس کے بعد اسلام لائے ان میں اسلامی تعلیمات رچی بسی نہ تھیں اور ان پر ابھی پرانے عقائد اور نظریات کی چھاپ خاصی گہری تھی۔اس صورت حال کا بھی تفریق بین المسلمین پر بڑا برا اثر پڑا اور طرح طرح کے نظریات اسلام کے نام سے پروان چڑھنے لگے۔یہ عناصر کھلی مخالفت تو کر نہیں سکتے تھے اس لئے اسلام کا نام لے کر وہ اپنے باطل نظریات مثلاً تناسخ اور حلول وغیرہ کو فروغ دینے لگے اور اس کے لئے قرآنی آیات سے حوالے تلاش کئے گئے۔فرقہ بندی کے فروغ کا مرکز عراق، ایران اور خراسان تھا۔یہ علاقے بنو امیہ کے مرکز یعنی شام سے دور تھے۔ان میں موالی یعنی عجمی نو مسلموں کی کثرت تھی جن کی ایک بڑی تعداد بوجوہ غیر معلمئن به ل الفتنة الكبرى ، حصه دوم المعروف عَلِيٌّ وَ يَتُوهُ صفحه ۷۹ و ۱۵۵ و ۱۸۱