تاریخ افکار اسلامی — Page 9
تاریخ افکا را سلامی اور نا آسودہ تھی۔اس لئے اس قسم کے موالی کی وجہ سے یہ علاقے شورشوں اور بغاوتوں کے گڑھ بن گئے اور طرح طرح کے نظریات ان میں پھلنے پھولنے لگے چنانچہ علامہ بغدادی اس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ظهر اكثر البدع مِنْ أَبْنَاءِ السَّيَايَا وَالْمَوَالِي ایرانی اور خراسانی عناصر تمدن اور تہذیب کے لحاظ سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے جب کہ عربوں نے ان علاقوں کو فتح کر کے ان کی ان تہذیبی اقدار کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا تھا جس کا ان عناصر کو شدید احساس تھا اور وہ اپنی تہذیب کے فروغ اور دوبارہ سیاسی اقتدار کے حصول کے لئے کوشاں رہنے لگے تھے۔دوسری طرف بنو امیہ نے بطور پالیسی یہ رویہ اختیار کر رکھا تھا کہ کوفہ اور عراق کے غیر مطمئن شورش پسند عربی قبائل کو مرکز یعنی شام سے دور رکھنے کے لئے ان کو ایرانی اور خراسانی سرحدوں کی طرف دھکیل دیا جاتا اور ان کو وہاں جاننے پر مجبور کر دیا جاتا تھا چنانچہ نوربیعہ کے کئی قبائل جن میں یمن کے اشعری بھی شامل تھے ایران کے وسطی علاقوں مثلا قم اور مشہد اور خراسان وغیرہ میں جلا وطن کئے گئے ہے بہر حال یہ غیر مطمئن عربی عناصر جو موالات اہل بیت کا دم بھرتے تھے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر طرح طرح کی مذہبی اور سیاسی شورشیں بپا کرتے رہتے تھے چنانچہ ابو مسلم خراسانی کو بنوامیہ کےخلاف اور بنو عباس کے حق میں کامیاب بغاوت کا جو موقع ملا اس کے پیچھے عرب و عجم کے انہی غیر مطمئن عناصر کا ہاتھ تھا جو ایک طرح سے عربوں کی شکست اور عجم کی فتح کے مترادف صورت حال تھی چنانچہ اسی وجہ سے عباسی حکومت میں عربوں کی بجائے عجمیوں کو مسلسل غلبہ حاصل رہا۔مسلمانوں کے ہاتھوں فارسی شہنشاہی بالکل تباہ و یہ باد ہو گئی تھی۔اس لئے اسیران و خراسان کے مفاد پرست عناصر جن کے اقتدار کو دھچکا لگا تھاوہ اس کوشش میں لگ گئے کہ کسی طرح سیاسی مفاد اور حکومتی افتد اردوبارہ حاصل کریں اس کے بر خلاف شام میں پہلے بھی اجنبی حکومت تھی مسلمانوں کی فتح سے صرف اتنی تبدیلی ہوئی کہ بُرے حکام کی بجائے نسبتا اچھے حکام سے ان لوگوں کو واسطہ پڑا اس لئے اس علاقہ کے لوگ اس تبدیلی کو ایک نشان رحمت سمجھتے تھے اور اس صورتِ حال نے ان کے ل الفرق بين الفرق للبغدادي مريم محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفر ۵۹ الصَّلَةُ بَيْنَ التصوف والتشيع في ۲۸۳۲۸ و ۳۱۸