تاریخ افکار اسلامی — Page 7
تاریخ افکا را سلامی امت مسلمہ میں اختلاف کے اسباب علماء تاریخ نے یہ بحث کی ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ بندی کے رجحان نے کیونکر فروغ پایا اور اس کے اسباب کیا تھے۔اس بحث کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔تحزب اور فرقہ پرستی کی سب سے اہم وجہ خلافت راشدہ کے بعد حکومت اسلامیہ کے حکام کا غیر شرعی کر دار تھا۔وہ اپنے فرائض کو بڑی حد تک بھول گئے تھے۔جونمونہ مسلمانوں نے خلافت راشدہ میں دیکھا تھا بنو امیہ کے زمانہ کے حکام اس کے برعکس تھے۔وہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے۔عدل و انصاف سے بڑی حد تک عاری ہو چکے تھے۔اس طرح جب اُس وقت کے خود غرض لیکن ذہین عناصر نے دیکھا کہ یہ حکام قومی اموال کو بڑی بے دردی سے اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے بے جا خرچ کرتے ہیں اور وفاداریاں خریدنے میں لگے ہوئے ہیں۔عیش و عشرت ان کی عادت بن گئی ہے تو یہ لوگ بھی جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے لگے اور اقتدار سے حصہ پانے کے لئے طرح طرح کے نظریات کو بنیاد بنا کر شورش بیا کرنے لگے تا کہ ان کی بھی بن آئے۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ کے شورش پسندوں میں قیادت بالعموم بنور بیعہ یا نومسلم عجمی عناصر کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے۔بعض عناصر جو دینی رجحان رکھتے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ ایسے لوگ امیر المومنین اور خلیفہ المسلمین بن گئے ہیں جن کا دین سے وہ تعلق نہیں جس کا انہوں نے خلفاء راشدین کے کردار میں مشاہدہ کیا تھا یا ان کے مثالی نمونہ کے بارہ میں سنا تھا تو ان کے دلوں میں مایوسی اور بے دلی پیدا ہوئی اور وہ سوچنے لگے کہ کیا سلف صالحین نے اس لئے عظیم الشان قربانیاں دی تھیں کہ یزید اور اس کے بیروز مسلمانوں کے امام اور خلیفہ بن جائیں۔اس طرح یہ خیال خام ان کو غلط راہ کی طرف لے گیا کیونکہ ابھی دین ان کے دلوں میں مستحکم نہیں ہوا تھا۔اسلام اتنی تیزی کے ساتھ پھیلا کہ اس زمانہ کی دوز بر دست اور بڑی پرانی تہذیبیں آن کی