تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 259 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 259

تاریخ افکار را سلامی ۲۵۹ ہوں۔اس کے ساتھ ہی احمد نے ایک اور شخص کو ابن حوشب کا ساتھی بنایا اس شخص کا نام علی بن فضل الیمنی تھا اور حج کرنے کے بعد قیر حسین کی زیارت کرنے کر بلا آیا تھا اس کے بعد سکھنیہ میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔احمد نے اسے مخلص پا کر اس طرح مخاطب کیا الحمد اللهِ الَّذِي رَزْقَنِي رَجُلا تَحْرِيرًا مِثْلَكَ اَسْتَعِيْنُ بِهِ عَلَى اَمْرِى وَ اَكْشِفُ لَهُ مَكْنُونَ سِرَى غرض اُسے خوب جوش دلایا اور ابن حوشب کے ساتھ مل کر کام کرنے کی تلقین کی۔ادھرا بن حوشب کو کہا کہ اس شخص کی دلداری کرنا ، اس کے ساتھ مل کر کام کرنا۔ظاہری لحاظ سے نماز روزہ کی پابندی کرنا۔اپنا را ز عام نہ کرنا۔لوگوں کو مرید بنانا اور رجب وہ قربانی کے لئے تیار ہو جائیں تو مقررہ مالی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے اُن سے کہتا ہے بہر حال ابن حوشب نے یمن پہنچ کر صنعاء سے جنوبی طرف ایک پہاڑی جگہ کو جس کا نام لا عہ تھا اپنا مرکز بنایا۔یہ بڑی محفوظ جگہ تھی وہاں پہلے سے ہی کچھ لوگ ہم خیال تھے۔مشہور کرایا گیا کہ ایک بڑا ولی اللہ عابد و زاہد اس علاقہ میں آیا ہے چنانچہ لوگ دھڑا دھڑ آنے لگے۔جب اچھی خاصی جمعیت اکٹھی ہو گئی تو ابن حوشب نے اردگرد کے علاقہ میں قلعہ بندی شروع کر دی اور یمن کے عباسی والی پر حملہ کرا دیا جو کامیاب رہا کیونکہ علاقہ میں پہلے ہی گڑیا تھی۔عباسی اثر و رسوخ برائے نام تھا۔خارجیوں اور زید کی اور اثنا عشری شیعوں نے ملک کا امن وامان ابتر کر رکھا تھا۔اس کے بعد ابن حوشب نے صنعاء کے جنوب میں دار الحجرت اور مرکز نشر واشاعت قائم کیا اور تھوڑے عرصہ میں اتنی کامیابی حاصل کی کہ مَنْصُورُ اليَمَن کے لقب سے مشہور ہو گیا۔اس نے اپنے مرکز اشاعت سے مختلف علاقوں میں اپنے داعی بھیجے خاص طور پر بحرین، یمامہ ، سندھ اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں داعی پہنچے اور خاصی کامیابیاں حاصل کیں۔دوسری طرف علی بن فضل نے یمن کے ایک علاقہ جیشان اور یافع کو اپنا مرکز دعوت بنایا اور اردگرد کے امراء سے جنگیں لڑ کر خاصی کامیابی حاصل کی۔اس کامیابی سے اس کا دماغ پھر گیا۔اس نے نبوت کا دعویٰ کیا او را سلام کو خیر باد کہہ دیا۔ایک قصیدہ میں وہ کہتا ہے۔تَوَلَّى نَبِيُّ بَنِي هَاشِم وهذا لَبِيُّ بَنِي يَعْرَب لِكُلِّ نَبِيٍّ مَضَى شِرْعَةً وَهَذِى شَرِيعَةُ هَذَا النَّبِيِّ قال اجمع المال والرجال۔۔۔۔۔و عمل الظاهر و لا تظهر الباطن و قل لكل شيء باطن۔۔۔۔۔۔وليس هذا وقت ذكره (تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٤٠٣)