تاریخ افکار اسلامی — Page 258
تاریخ افکا را سلامی POA فلسطین ، شام، یمن اور حجاز میں تو بنو فاطمہ کے نام کا خطبہ ایک لمبے عرصہ تک جاری رہا اورا یو بیوں کے عہد حکومت میں اس کا رواج ختم ہوا۔اسی زمانہ میں تاتاریوں کے حملے بھی شروع ہوئے جو آخر سقوط بغد اداور خلافت عباسیہ کے خاتمہ پر منتج ہوئے۔صلیبی لڑائیوں میں مصلیبیوں کی کامیابی کا بھی یہی زمانہ ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو آپس میں لڑتے دیکھا تو ان کے حوصلے بڑھ گئے۔ارض فلسطین اور شام کے بعض حصے اُن کے قبضہ میں چلے گئے۔یہ کامیابیاں انہوں نے بعض شیعہ فرقوں کی مدد سے حاصل کیں۔فاطمی زعماء نے اسماعیلی مذہب کی دعوت واشاعت کے لئے اسلامی ممالک میں چاروں طرف اپنے دائی پھیلائے ہوئے تھے جو حسب حالات کہیں ظاہر اور کہیں خفیہ اپنے نظریات اور خلافت فاطمیہ کی حقیقت کی برابر تبلیغ کرتے رہتے تھے۔بعض دامی بڑے قابل علوم کے ماہر اور اصول تبلیغ سے پوری طرح واقف تھے اور اثر و رسوخ بڑھانے کے طریقوں کو اچھی طرح جانتے تھے چنانچہ ان کی کوششوں سے ہر ملک اور ہر علاقہ میں اُن کے بڑے مضبوط مرکز اور دارالہجرت قائم ہو گئے۔موصل میں اسماعیلی مذہب کا داعی خود وہاں کا والی تھا۔اس کے بعد قِرْدَاشِ الْعُقَيْلِی نے موصل آبنائے مدائن اور کوفہ میں بڑا کام کیا۔ایک اور داعی هِبَةُ اللهِ الشَّيْرَازِی نے عباسی حکام اور بعض سلجوقی ترکوں کو اسماعیلیت کی طرف مائل کرنے کا تاریخ ساز کارنامہ سرانجام دیا ہے۔یمن کا پہلے ذکر آچکا ہے کہ سلمیہ میں مستور ائمہ میں سے دوسرے امام احمد ابوا لشعاع نے یمن کے علاقوں میں اسماعیلی دعوت پھیلانے کی ذمہ داری ابن کو شب کے سپرد کی۔ابن حوشب کا پورا نام ابوالقاسم الحسن بن ابی الفرج بن حوشب ہے۔یہ کوفہ میں پیدا ہوا۔خاندان علمی تھا او را ثناعشری عقائد رکھتا تھا لیکن ابن حوشب نے اسماعیلی عقائد کو اپنایا اور ائمہ مستورین کے مقربین میں شمار ہونے لگا۔وہ اسماعیلیوں کے اس نظریہ سے بے حد متاثر تھا کہ امام مہدی عنقریب ظاہر ہونے والا ہے۔احمد ابو الشلعلع نے ابن حوشب کو کہا اے ابوالقاسم یمن بڑی برکات کا حامل ہے ہے اس لئے یہ علاقہ میں آپ کے سپر دکرنا تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۲۳۳٬۲۳۲ قال يا أبا القاسم ان الدين يمان والحكمة يمانية وكل امر يكون مبدؤه من قبل اليمن فانه يكون ثابتاً لثيوت نجم اليمن وذالك ان اقليم اليمن اعلى اقليم الدنيا - تاريخ الدولة الفاطميه صفحه ۴۰۲ بحواله اخبار القرامطه صفحه (۲۳)