تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 172 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 172

تاریخ افکار را سلامی سینہ سپر ہو گئے۔خصوصاً اُس زمانہ کے صوفیوں کو جن کا بڑا اثر تھا آپ نے ہدف تنقید بنایا جس کی وجہ سے وہ آپ کے سخت خلاف ہو گئے۔ان حالات میں ضروری تھا کہ جہاں اُن کے کچھ حامی دوست اور عقیدت مند ہوں وہاں مخالفوں کی بھی کثرت ہوئے چنانچہ حاکم مصر الناصر بن قلا دون کے پاس آپ کی شکایت کی گئی۔اس وقت شام کا علاقہ مصر کی عملداری میں تھا اُس نے آپ کو بلا بھجوایا تو الناصر کو اگر چہ ابن تیمیہ سے عقیدت تھی لیکن علماء کے شوروشر سے مجبور تھا۔وہاں کے قاضی نے الزام لگایا کہ یہ تجسیم الله کے قائل ہیں۔آپ نے قاضی کو حکم ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ اس سے پہلے اس کے حکم سے ایک عالم کو جس کا کوئی قصور نہیں تھا قتل کیا جا چکا تھا چنانچہ اس قاضی نے آپ کو بھی قید کر دیا۔اٹھارہ ماہ آپ قید رہے۔پھر الناصر کی کوشش سے رہائی پائی۔آپ نے پھر سے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اور صوفیا ء کے عقائد پر حملے برابر جاری رکھے۔الناصر کا ایک پیر تھا جو وحدۃ الوجود کو مانتا تھا۔امام ابن تیمیہ اس عقیدہ کے سخت خلاف تھے۔اس نے الناصر پر دباؤ ڈالا کہ ابن تیمیہ کو تنقید سے روکا جائے لیکن آپ کا موقف یہ تھا کہ جو بات حق ہے اُس کے اظہار سے وہ نہیں رک سکتے۔چونکہ شور و شغب بڑھ گیا تھا اور عوام پر صوفیاء کا بڑا اثر تھا اس لئے امام ابن تیمیہ کے سامنے تین تجویز میں رکھی گئیں اول یہ کہ وہ قاہرہ سے الاسکندریہ چلے جائیں ان لوگوں کا خیال تھا کہ وہاں ان کو کوئی جانتا نہیں اس لئے ان کی کوئی نہیں سُنے گا اور ساتھ یہ بھی شرطا تھی کہ وہاں جا کر کوئی وعظ وغیرہ نہیں کرنا زبان بند رکھتی ہے اگر یہ منظور نہیں تو پھر زبان بندی کی اس شرط کے ساتھ وہ واپس دمشق چلے جائیں اور تیسری صورت یہ ہے کہ آپ کو دوبارہ قید کر دیا جائے۔تاہم قید خانہ میں آپ کے شاگر د آپ سے پڑھ سکیں گے۔آپ نے علامہ ذہبی جو آپ کے ہم عصر تھے وہ آپ کے بارہ میں لکھتے ہیں۔من خــالـطــه و عرفه ينسيني الى التقصير فيه و من خالفه ونابله قد ينسينى الى التغافل فيه وقد أوذيت من الفريقين من اصحابه و اضداده و لا اعتقد فيه عصمة فانه كان مع سعة علمه و فرط شجاعته و سيلان ذهنه بشرا من البشر تعتريه حدة في البحث و غضب للخصوم تزرع له عداوة في النفوس ولولا ذالك لكان كلمة اجماع فان كبارهم تعترفون بانه بحولا ساحل له و كنز ليس له نظير و لكنهم ياخذون عليه اخلاقا و افعالا (محاضرات صفحه ۴۴۸