تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 171 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 171

تاریخ افکا را سلامی انا کافی لمبی عمر پائی اور اپنے لائق بیٹے کے عروج کے زمانہ کو بھی دیکھا۔امام ابن تیمیہ کا حافظہ غضب کا تھا کہا جاتا ہے کہ الجَمْعُ بَيْنَ الصَّحِيحَيْنِ لِلْحُمَيْدِى آپ کو یا تھی۔علوم عربیہ میں بھی آپ کو مہارت تامہ حاصل تھی۔امام ابن تیمیہ میں متعد د وصف نمایاں تھے۔بچپن سے ہی آپ بڑے محنتی ، بختیوں کے عادی اور سنجیدہ طبیعت تھے۔تیز ذہن، ملکہ حفظ میں مستحکم اور حساس طبیعت رکھنے والے تھے۔علم کا ذوق ورثہ میں ملا تھا ان صفات کی وجہ سے بہت جلد اقران زمانہ سے آگے نکل گئے۔چونکہ گھرانہ فضیلی المسلک تھا اس لئے ابن تیمیہ پر بھی یہ رنگ نمایاں رہا۔اس زمانہ میں صلاح الدین ایوبی کی کوششوں کی وجہ سے عقائد میں امام ابوالحسن اشعری اور فقہ میں امام شافعی کا مسلک غالب تھا اس وجہ سے امام ابن تیمیہ کو جو حنبلی اور سلفی تھے شافعیوں اور اشعریوں کے مقابلہ میں بڑے مصر کے سر کرنے پڑے۔مخالفتوں کا ایک زور تھا جس سے امام ابن تیمیہ دو چار تھے لیے امام ابن تیمیہ اور درس و تدریس ابن تیمیہ قریباً اکیس سال کی عمر میں اپنے والد کی وفات کے بعد مسند تدریس پر متمکن ہوئے۔آہستہ آہستہ آپ کے درس کا غلغلہ بلند ہوتا گیا۔آپ بڑے فصیح اللسان اور واضح البیان اُستاد تھے باتوں میں بڑی مٹھاس اور بیان میں بڑا اثر تھا۔ہر قسم کے خیال کے لوگ موافق اور مخالف منگی اور بدعتی شیعہ اور معتزلہ بھی شامل درس ہوتے اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق استفادہ کرتے ہے امام ابن تیمیہ اور ابتلا امام ابن تيمية تفوق علمی کے ساتھ ساتھ بڑے تیز طبیعت بھی تھے۔مخالف پر بڑی شدت کے ساتھ حملہ آور ہوتے اُس زمانہ میں تو ہمات اور بدعات کا زور تھا۔پیر پرستی اور قبر پرستی نے مسلم معاشرہ کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھیں۔امام ابن تیمیہ معاشرہ کی ان سب بیماریوں کے خلاف ا كانت مناضلات له في هذا السبيل و نزلت به محن و کادت نفسه تذهب في هذ الامر (محاضرات صفحه (۴۴۷) کے اُس زمانہ کے ایک بہت بڑے فقیہ ابن دقیق العید نے آپ کا درس سن کر کہا رأيت رجلاً جمع العلوم كلها بين عينيه ياخذ منها ما يريد و يدع ما يريد (محاضرات صفحه ۴۳۸)