تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 161 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 161

ایک دفعہ جبکہ آپ یمن میں مقیم تھے اور مالی حالات اچھے نہ تھے آپ کے استاد محدّث عبدالرزاق نے آپ کی مدد کرنا چاہی لیکن آپ کسی قسم کی امداد لینے کے لئے تیار نہ ہوئے۔آپ ٹوپیاں بن کر بیچتے اور اس آمدن سے گزا را چلاتے۔ایک دفعہ آپ کے کپڑے چوری ہو گئے۔۔کئی روز باہر نہ جا سکے آپ کے ایک طالب علم دوست کو پتہ چلا تو کچھ رقم دینی چاہی لیکن آپ نے قبول نہ کی اُس نے اصرار کیا کہ کب تک اس طرح گھر دبکے بیٹھے رہیں گے۔اُدھار لے لیں اور جب آپ کے پاس رقم آجائے تو واپس کر دیں لیکن آپ پھر بھی راضی نہ ہوئے۔آخر یہ شرط رکھی کہ میں اُن کے نوٹس صاف کر کے لکھ دیتا ہوں اس کا معاوضہ آپ دیر میں فرض اس رقم سے کپڑے بنوائے اور گھر سے باہر آنے جانے لگے۔آپ بڑے قومی الحافظہ تھے۔ہزاروں حدیثیں یاد تھیں اس کے با وجود جو حد بیث سنتے لکھ لیتے اور پھر اُن لکھے ہوئے نوٹس کو دیکھ کر حد بیث روایت کرتے حالانکہ حد میث آپ کو یا دہوتی۔یہ احتیاط صرف اس وجہ سے تھی کہ حدیث رسول میں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔آپ نے فقہاء عصر سے فقہ بھی پڑھی۔صحابہ اور تابعین کے فتاوی کا بھی مطالعہ کیا لیکن زیادہ رجمان حدیث و آثار کی طرف تھا اسی کے سیکھنے اور سکھانے میں اپنی زندگی وقف کئے رکھی۔امام احمد فارسی زبان بھی جانتے تھے۔آپ کا خاندان فارس میں رہا تھا اس وجہ سے گھر میں فارسی بولی سمجھی جاتی تھی۔امام احمد اور درس و تدریس چالیس سال کی عمر ہوئی تو آپ نے اپنا حلقہ درس قائم کیا۔یہ ۲۰۴ ھ کے بعد کا واقعہ ہے جبکہ آپ کے استاد حضرت امام شافعی کا انتقال ہو چکا تھا۔آپ کے قائم کردہ مدرسہ حد بیت کو بہت شہرت ملی کیونکہ حد بیث کی تدریس کے ساتھ ساتھ آپ تقومی ، پرہیز گاری اور اعمال صالحہ کے لحاظ سے بھی بڑی امتیازی شان رکھتے تھے۔طلبہ حدیث کی بہت بڑی تعداد آپ کے مدرسہ سے متعلق تھی۔سینکڑوں قلم دوات لئے ہر وقت لکھنے کے لئے تیار رہتے تھے۔آپ کا گزارا مختصر سی آمدن پر تھا جو مکانوں کے کرایہ سے ہوتی تھی۔بعض نے اس کی مقدار سترہ درہم ماہوا رکھی ہے۔جیسا کہ سابقہ سطور میں گزر چکا ہے کہ آپ مزدوری بھی کر لیتے تھے