تاریخ افکار اسلامی — Page 160
تاریخ افکا را سلامی 14+ ۳۔حضرت امام احمد بن حنبل امام احمد ۱۴ ھ میں بغداد میں پیدا ہوئے والد کا نام محد تھا اور دادا کا منبل۔آپ اپنے دادا کی نسبت سے ابن مقبل کہلائے۔امام محمد بن حسن الشیبانی کی طرح آپ کا تعلق بھی عدنانی قبیلہ شیبان سے تھا۔دادا سرخس کے والی تھے لیکن والد فوج میں ایک معمولی عہدہ پر کام کرتے تھے تاہم وہ بڑے سبھی اور مہمان نواز تھے۔خراسان کی طرف آنے والے عرب وفود کی خوب خاطر تواضع کرتے۔جب وہ خراسان سے بغداد آئے تو ان کی مالی حالت اچھی نہ رہی۔وہ امام احمد کی ولادت کے کچھ عرصہ بعد فوت ہو گئے اور احمد کو ان کے چچا نے پالا۔احمد جب کچھ بڑے ہوئے تو قرآن کریم حفظ کیا اس کے بعد عربی زبان سیکھنی شروع کی۔پھر حد بیمث اور صحابہ و تابعین کے آثار سے واقفیت بہم پہنچائی۔شروع سے ہی بڑے ذہین، پُر وقار ، سنجیدہ طبع اور عبادت سے شغف رکھنے والے نوجوان تھے یہ حدیث رسول اور آثار صحابہ آپ کا پسندیدہ موضوع تھا اور اس میں آپ نے مہارت حاصل کی۔ابتداء امام ابو یوسف" سے پڑھا۔اس کے بعد ۱۸۶ ھ میں جبکہ آپ کی عمر بائیس سال کے قریب تھی آپ نے بصرہ کوفہ اور حجاز کے مختلف شہروں میں جا کر مشہور زمانہ محد ثین سے حدیث پڑھی۔انہی سفروں کے دوران آپ مکہ میں امام شافعی سے بھی ملے اور اُن سے بڑے متاثر ہوئے پھر جب وہ بغداد آئے تو ان کی شاگردی اختیار کی ہے مکہ میں سفیان بن عیینہ سے بھی حدیث پڑھی۔کیمن جا کر وہاں کے مشہور محدث عبد الرزاق بن حمام سے ان کی مرویات کا علم حاصل کیا اور سند لی۔عبد الرزاق صنعاء میں رہتے تھے۔امام احمد بن حنبل کثیر الج تھے۔بعض حج بغداد سے مکہ تک پیدل چل کر ادا کئے اور علم بھی حاصل کیا۔طالب علمی کے ان سفروں میں بڑی بڑی مشکلات بھی پیش آئیں۔مالی تنگی بھی دیکھی، لیکن علم کی دولت کے مقابلہ میں ان ساری مشکلات کو ایک جانا۔بعض اوقات مزدوری کر کے گزارا چلاتے۔لے مشہور محدث الہیثم بن جمیل نے آپ کو دیکھ کر کہا ان عاش هذا الفتى فيكون حجة اهل زمانه (محاضرات الامام الشافعی صفحه ۱۴۶، الامام احمد بن حنبل صفحه ۴۳ صفحه ۳۰۵)