تاریخ افکار اسلامی — Page 162
تاریخ افکا را سلامی ۱۶۴ یہاں تک کہ کھیتوں میں فصل کی کٹائی کے بعد گری پڑی بالیں بھی بچن لاتے تھے لیکن خلفاء اور امراء کے کسی قسم کے نذرانے قبول کرنے کے لئے کبھی تیار نہ ہوئے لیے امام احمد احادیث کے علاوہ فقہی آراء اور فتاویٰ لکھنے کے روادار نہ تھے اور کسی کو اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے سامنے ذکر ہوا کہ عبد اللہ بن مبارک تو حنفی فقہ کے مسائل لکھ لیا کرتے تھے یہ سن کر آپ نے فرمایا: ابنُ المُبارک لَمْ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ ا بن مبارک آسمان سے نہیں اترے، وہی کچھ لکھنا چاہیے جو آسمان سے نازل ہوا ہے کے تا ہم امام احمد کی اس تختی کے باوجود آپ کے شاگردوں نے آپ کی فقہی آراء کو مدون کیا جو کئی جلدوں پر مشتمل ہیں۔امام احمد کا ابتلا اور آپ کی استقامت یہ دور مذہبی کلامی اور فلسفیانہ مباحث و مناظرات کا دور تھا۔معتزلہ جو علم کلام کے بانی تھے غالب آرہے تھے ان کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل مثلا انسان مجبور ہے یا مختار، اللہ تعالیٰ کی صفات عین ذات ہیں یا غیر ذات ، کلام اللہ تعالیٰ کی صفت ہے یا نہیں، قرآن کریم قدیم ہے یا مخلوق زیر بحث رہتے تھے اور مناظرات کا ایک شور مچا ہوا تھا خود مامون الرشید اس قسم کے مباحث سے دلچسپی رکھتا تھا اور معتزلہ اُسے اُکتاتے تھے کہ اس قسم کے عقائد کی ترویج میں سختی سے کام لیا جائے ہے اس وجہ سے سلف پرست علماء کو سخت ابتلا کا سامنا تھا۔امام احمد بھی اسی سلسلہ میں زیر عتاب آئے آپ کا موقف یہ تھا کہ اس قسم کے عقائد کی مباحث نہ صحابہ نے اُٹھائے اور نہ اُن کے اُن شاگردوں نے جو اُمت میں تابعین کے نام سے شہرت رکھتے ہیں۔ان کی پیروی میں ہمیں بھی ان میں نہیں اُلجھنا چاہیے جو کچھ وہ مانتے تھے اُسی پر اکتفا کرنی تفصیل کے لئے دیکھیں۔الامام احمد صفحه ۲۷۲، مالک بن انس صفحه ۱۱۷ محاضرات صفحه ۷ ۳۲ تا ۳۳۵ أمرنا ان نا تُحذ العلم من فوق (محاضرات صفحه ۳۱۵) قبل قد عمل على اثارة هذا المسئلة النصارى فانهم يقولون قد جاء في القرآن ان عيسى كلمة الله القاها الى مريم و كلمة الله قديمة فعيسى قديم فقال الجعد بن جهم والجهم بن صفوان جوابا للنصارى ان الكلام و القرآن مخلوق ليس بقديم واعتنق المعتزلة والمامون ذالك الرأى (محاضرات صفحه ۳۱۷) الامام احمد صفحه (۱۶۵)