تاریخ افکار اسلامی — Page 92
تاریخ افکار را سلامی ۹۳ امام شافعی کا خاص کارنامہ قرار دیا گیا ہے اور یہ سمجھا گیا ہے کہ ان توضیحات کی وجہ سے بیچا اور غلط قیاس کی روک تھام ہوئی ہے آپ نے حکم کی علت کے واضح ہونے کے لحاظ سے قیاس کی کئی قسمیں تجویز کی ہیں۔مثلاً حکم کی علت بڑی واضح اور جانی پہچانی ہو۔جیسے اگر قلیل اور تھوڑی چیز حرام ہے تو کثیر اور زیادہ تو بطریق اولی حرام ہو گی مثلاً اگر شراب کا ایک گھونٹ حرام ہے تو ایک گلاس تو بطریق اولی حرام ہو گا۔اگر ماں باپ کے سامنے اُف کرنا نا جائز ہے تو اُن کو جھٹر کنایا اُن کو مارنا تو بہت بڑا گناہ ہوگا۔امام شافعی اس طرز استدلال کو قیاس کی ایک قسم قرار دیتے ہیں اور دوسرے فقہاء اسے دَلَالَةُ النَّص يا دَلَالَةُ الموافقة کہتے ہیں اور اسے قیاس کی قسم نہیں سمجھتے۔-2 حکم منصوص کی علت اور مسئلہ زیر بحث میں موجود علت وضاحت کے لحاظ سے مساوی ہوں مثلاً لونڈی اگر جرم زنا کی مرتکب ہو تو اس کی سزا آزاد کی سزا سے نصف ہے اور یہ حکم نص سے ثابت ہے سے اور اس تخفیف کی وجہ اور علت اس کی غلامی اور دقیت (آزادی) ہے۔غلام مرد میں بھی یہی ملت پائی جاتی ہے۔دونوں غلامی کے لحاظ سے مساوی ہیں اس لیے دونوں کی سزا بھی ایک جیسی ہونی چاہیے۔کو یا غلام مرد کی سزا کو غلام عورت (لونڈی) کی منصوص سزا پر قیاس کیا گیا ہے۔دوسرے فقہا کے نزدیک یہ صورت بھی از قسم قیاس نہیں بلکہ قانون المُسَاوَاةُ فِي التكليف کی بنا پر ہے یعنی مرد اور عورت مکلف ہونے کے لحاظ سے برابر کے ذمہ دار ہیں۔منصوص حکم کی علت میں خفا اور ابہام ہو۔پوری طرح واضح نہ ہو کہ حکم کی جو علت اور وجہ کبھی گئی ہے حقیقت میں بھی وہی علت اور وجہ ہے یا کوئی اور وجہ ہے۔پھر خفا اور ابہام کے کئی درجے ہیں اور اصلیت تک پہنچنے کے لیے بڑے غوروفکر اور سوچ بچار کی ضرورت پڑ سکتی ہے نیز غور و فکر کی اہلیت میں بھی بڑا تفاوت ہوتا ہے۔اس وجہ سے قیاس کی اہمیت اور اس کی صحت کے بارہ میں فرق آئے گا اور وہ کئی قسموں میں منقسم ہو جائے گا۔علماء اسلام کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ قیاس اس مسئلہ کے بارہ میں کیا جائے جس کا يقسم الشافعى القياس الى مراتب على حسب مقدار وضوح العلة وقوتها في التاثير بالنسبة للفرع (محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهية صفحه ۲۸۹)