تاریخ افکار اسلامی — Page 91
تاریخ افکا را سلامی ۹۱ ہے اس کے جاننے کے نہ ہم مکلف ہیں اور نہ ہی اس کے وسائل ہمارے پاس موجود ہیں۔اخبارا حاد کا یہی ما حاصل ہے اپنی وسعت کے مطابق چھان بین اور راویوں کے حالات جاننے کے بعد ہمیں اطمینان ہو جانا چاہیے کہ یہ باتیں اور ان کی روایتیں درست ہیں اور ان کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔اسی سلسلہ کی ایک اور مثال گواہوں کی گواہی ہے۔حج کواہوں کی گواہی سنتا ہے۔ان کے حالات کی چھان بین کرتا ہے گواہ اسے عادل اور بچے لگتے ہیں وہ گواہی کے انداز اور سیاق و سباق کا بھی جائزہ لیتا ہے غرض سارے قرائن یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ گواہوں کی کوا ہی درست ہے چنانچہ حج اس گواہی کے مطابق فیصلہ سناتا ہے اور وہ اس کا مکلف ہے۔اسی طرح بچے اور نیک لوگوں کی بتائی ہوئی دینی خبروں کا ماننا بھی ضروری ہے دنیا میں اسی طرح کام چلتا ہے اور اس کو اپنائے بغیر چارہ نہیں۔یہی حال قیاس صحیح کا ہے۔مجتہد نے غور کیا۔سوچا حکم کی علت اور وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی اور وہی وجہ مسئلہ زیر بحث میں بھی موجود ہے تو وہ مجتہد یہ فیصلہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ اس مسئلہ زیر بحث کا بھی وہ حکم ہے جو مسئلہ منصوص میں شارع نے بتایا ہے۔یہ ساری کارروائی حسن ظن اور علم راجح کی بنا پر ہے اور انسان اس کا مکلف ہے۔ایک آدمی اس علم کی بنا پر ایک عورت سے شادی کرتا ہے کہ اس عورت سے شادی کرنا اس کے لیے جائز ہے حالانکہ حقیقت میں وہ عورت اس کی بہن ہے لیکن دونوں کو اس کا علم نہیں کہ وہ آپس میں بھائی بہن ہیں۔مثلاً جنگی افراتفری میں وہ ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور مختلف گھروں میں انہوں پرورش پائی۔شادی کے بعد ان کے بچے ہوئے کچھ مدت بعد ان کے علم میں آیا کہ وہ تو بہن بھائی ہیں سابقہ عملدرآمد کی بنا پر وہ گنہگار نہ ہوں گے اور جو اولا د ہو چکی ہے وہ ثابت النسب اور دونوں کی وارث ہوگی۔علم کے بعد جدائی تو ہو جائے گی لیکن مہر ادا کرنا ہوگا اور عورت کے لیے عدت گزارنا ضروری ہوگا۔حضرت امام شافعی کے نزدیک صحیح قیاس کی اقسام حضرت امام شافعی نے قیاس کی تحدید کے سلسلہ میں جو حدود اور شرائط بیان کی ہیں انہیں مزید تفصیل کے لیے دیکھیں محاضرات فی تاریخ المذاهب الفقهيه صفحه ۲۸۶ الامام الشافعي صفحه ۱۳۹