تاریخ افکار اسلامی — Page 80
تاریخ افکا را سلامی ۸۰ نے کسی کے استدلال کو ر ڈ نہ فرمایا ہے ۴۔حضرت علی یمن کے والی تھے آپ کے سامنے یہ کیس آیا کہ ایک لڑکے کے بارہ میں تین دعویدار تھے کہ یہ ان کا بیٹا ہے ثبوت کسی کے پاس نہ تھا۔آپ نے قرعہ ڈالا جس کے حق میں قرعہ نکلا اس کے سپر د کیا اور دوسرے دو کو اس سے 2/3 دیمت دلوائی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فیصلہ کا علم ہوا تو آپ نے حضرت علی کی فراست کو سراہا اور خوش ہوئے ہے۔ایک شخص فوت ہوا۔دادا اور بھائی وارث چھوڑے۔حضرت ابو بکر کی رائے تھی کہ دادا کی موجودگی میں بھائی وارث نہیں ہو سکتے۔حضرت زید بن ثابت کی رائے تھی دادا کے ساتھ بھائی وارث ہوں گے۔دادا کو ایک بھائی کے برابر حصہ ملے گا بشرطیکہ وہ ثلث 113 تر کہ سے کم نہ ہو۔ہے۔حضرت عمر کے سامنے سوال آیا کہ ایک عورت فوت ہوئی ہے اس کے سگے بھائی بھی موجود ہیں اور اخیافی بھی نیز خاوند بھی زندہ ہے۔آپ نے فیصلہ فرمایا کہ سگے بھائی محروم ہوں گے اور اخیا فی بھائی اور خاوند وارث ہوں گے۔ایک سال بعد ایسے ہی ایک کیس میں آپ نے پہلے فیصلہ کے خلاف فیصلہ دیا اور سگے بھائیوں کو بھی حصہ دلایا۔کے ے۔ایک سادہ اور ان پڑھ لونڈی زنا کے جرم میں پکڑی گئی پوچھنے پر وہ کہنے لگی فلاں مرد نے دو درہم دیئے تھے پھر میں کیا کرتی۔حضرت عمر نے موجود صحابہ سے مشورہ لیا۔حضرت عثمان نے کہا ان پڑھ اور نا واقف ہے اسے کچھ علم نہیں۔سزا تو اسے دی جاسکتی ہے جو کچھ جانتا ہو اور احکام الہی کا تھوڑا بہت علم رکھتا ہو۔حضرت عمر نے یہ مشورہ قبول کیا اور لونڈی کو سزا نہ دی۔۔حضرت عثمان نے جمعہ کے روز دوسری اذان کا طریق جاری کیا تا کہ لوگ تیار ہو کر بر وقت جمعہ کی نماز کے لئے پہنچ سکیں۔ھے ۹۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے سامنے یہ کیس آیا کہ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا ابھی رخصتانہ نہیں ہوا تھا کہ وہ شخص فوت ہو گیا۔حضرت ابن مسعودؓ نے فتوی دیا کہ اس عورت کو مہر مثل دیا جائے۔14+ ام ابو حنيفه ص ۱۷۰ محاضرات في تاريخ المذاهب الفقهيه صفحه ۲۷ ابوحنیفه صفحه ۱۴۷ ابو حنیفه صفحه ۱۴۹۰۱۴۸