تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 81 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 81

تاریخ افکار را سلامی Al یہ تو انفرادی سوچ یا جزوی مشورہ کی بنا پر رائے کے اظہار یا فتویٰ دینے کی مثالیں ہیں اجتماعی مشورہ کی مثالیں بھی متعدد ہیں۔صحابہ حسب ضرورت دینی مسائل میں اپنی رائے کا اظہار کرتے اور ضروری فیصلے دیتے۔۱۰ بیعت خلافت صحابہ کے مشورہ سے ہی منعقد ہوئی۔حضرت ابو بکر نے صحابہ کے مشورہ سے حضرت عمر کو اپنا جانشین مقرر کیا۔سرکاری طور پر مستند مصحف امام صحابہ کے مشورہ کے بعد ہی تیار ہوا ہے سوا د عراق کی زمینیں صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد حکومت کی ملکیت میں رہنے دی گئیں اور سابقہ دستور کے مطابق فاتح افواج میں تقسیم نہ کی گئیں ہے غرض صحابہ حسب ضرورت و حالات رائے کے اظہار اور اپنے اجتہاد کے مطابق فیصلہ دینے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے۔اگر فوری طور پر ضرورت کے وقت انہیں قرآن وحدیث کی کوئی نص نہ ملتی تو بلا کسی توقف اور مزید تلاش کے ان کے فیصلے صادر ہوتے کے جن صحابہ کے بارہ میں یہ مروی ہے کہ وہ رائے کے اظہار میں تو قف فرماتے تھے وہ وہ ہیں جن کے سپر د کوئی ذمہ داری نہ ہوتی یا مسائل بیان کرنا وہ اپنا منصب نہیں سمجھتے تھے یا وہ فرضی سوالوں کے جواب سے بچنا چاہتے تھے۔تا ہم اس خدشہ کی روک تھام ضروری کبھی گئی کہ کسی ذہن عناصر " آزادانہ سوچ کے نام پر گمراہی نہ پھیلا سکیں اور خلاف اسلام نظریات کی اشاعت کا موجب نہ بنیں۔چنانچہ صحیح رائے پر رکھنے اور درست اجتہاد کی راہ ہموار کرنے کے علماء اسلام نے جو اصول تجویز کئے ان کا مختصر بیان "اجتہاد" کے عنوان کے تحت پیش کیا جا رہا ہے۔انفرادی اور اجتماعی اجتہاد اور اس کی ضرورت اجتہاد کے لغوی معنے کسی اہم مقصد کے حصول کے لئے پوری پوری جان تو رکوشش کرنا اور فقہاء ابو حنيفه صفحه ۷ ۱۶۰،۱۳۹۰۱۴ کے الامام الشافعي صفحه ۲۰۸ عمل الصحابة بما رأوه مصلحة فى شئون المعاملات السياسية والتدبير و مصالح الدولة۔وقد عمل عمر عِظام الأعمال دون بحث عن نصوص تشهد لها إلَّا كليات الشريعة في المصلحة مالک بن انس صفحه ۲۰۷،۱۷۱)