تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 79 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 79

تاریخ افکار را سلامی 29 اگر غور کیا جائے اور گہری نظر ڈالی جائے تو رائے " کے بارہ میں اختلاف از قسم نزاع لفظی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ فقہ کے تمام علماء کسی نہ کسی رنگ میں اور کسی نہ کسی درجہ میں رائے " کے قائل ہیں اور رائے سے کام لیتے رہے ہیں فرق صرف قلت یا کثرت کا ہے، اسلوب اور انداز کا ہے، نام اور اصطلاح کا ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو ذمہ داری کے مقام پر فائز تھے وہ کسی قسم کی فنی یا اصطلاحی پیچیدگیوں میں الجھے بغیر حسب ضرورت و حالات رائے سے کام لیتے اور سوچ بچار کے بعد ضروری فیصلے کرتے۔رائے کا اس طرح استعمال انفرادی بھی تھا اور اجتماعی بھی اور اس کی متعد د مثالیں تاریخ نے محفوظ کی ہیں۔مثلاً ا۔حضرت معاذ بن جبل کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یمن کی طرف والی بنا کر بھیجا تو انہوں نے حضور کے پوچھنے پر عرض کیا میں قرآن وسنت کے بعد اپنی رائے اور سمجھ سے کام لے کر فیصلے کیا کروں گا اور حضور نے ان کے اس اظہار کی تصدیق فرمائی ہے -۲۔جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ایک صحابی نے عرض کی اگر تو یہ پڑاؤ اللہ کے حکم کے ماتحت ہے تو مجال کلام نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے طور پر فیصلہ فرمایا ہے تو جنگی نقطہ نظر سے یہ مقام مناسب نہیں وہ سامنے پانی ہے اس کے قریب لشکر قیام کرے پانی حاصل کرنے میں آسانی رہے گی دوسرے دشمن پر دباؤ قائم رکھنے کا مناسب موقع ملے گا۔حضور نے اس صحابی کے اس مشورہ کو پسند فرمایا اور اس کی بتائی ہوئی جگہ میں لشکر کو ٹھہرایا۔- جنگ احزاب کے دنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کی سرکوبی کے لئے ایک مہم بھیجی اور دستہ کو حکم دیا کہ بڑی تیزی سے جائیں اور عصر کی نماز بنو قریظہ کی بستی میں جا کر پڑھیں۔تیز چلنے کے باوجود عصر کی نماز میں دیر ہو رہی تھی۔بعض صحابہ نے کہا کہ حضور کے فرمان کا منشاء جلدی پہنچنے کا تھا اس لئے انہوں نے عصر کی نماز راستہ میں ہی پڑھ لی۔کچھ صحابہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ حضور کے فرمان کی لفظ بلفظ تعمیل ہونی چاہیے۔چنانچہ انہوں نے سورج ڈوبنے کے بعد بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ کر نماز پڑھی۔حضور کے علم میں یہ بات آئی لیکن حضور L ابو داود كتاب الاقضية باب اجتهاد الرأى بالقضاء