تاریخ افکار اسلامی — Page 348
تاریخ افکا را سلامی ۳۴۸ یعنی اللہ تعالی نے آل ابراہیم میں سے رسول، نبی اور امام بنائے لیکن عجیب بات ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی برکات اور ایسے درجات کے موجود ہونے کا لوگ انکار کرتے ہیں۔حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔أُوتِيَ الْأَنْبِيَاءُ إِسْمَ النُّبُوَّةِ وَ أُوتِينَا اللَّقَبَ أَي حُجَرَ عَلَيْنَا اِسْمُ النُّبُوَّةِ مَعَ أَنَّ الْحَقِّ تَعَالَى يُخْبِرُنَا فِي سَرَائِرِنَا بِمَعَانِي كَلَامِهِ وَ كَلَامِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُعْتَبَرُ صَاحِبُ هَذَا الْمَقَامِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ الْأَوْلِيَاءِ یعنی سابقہ امتوں کے بزرگ نبی" کے نام سے پکارے جاتے تھے اور ہمیں یہی لقب اور مقام تو حاصل ہے لیکن بعض حکمتوں کے تحت ) یہ نام ہمارے لئے استعمال نہیں ہوا یا وجود اس کے کہ قرآن کریم کے معانی حق تعالیٰ کے حضور سے ہمیں القاء ہوتے ہیں اور اس کے رسول کے کلام کو سمجھنے کے لئے ہمیں آسمان سے رہنمائی ملتی ہے اور اسی وجہ سے امت محمدیہ میں اس مقام کے حاملین الانبياء الا وَلِيَاء کہلاتے ہیں۔۔۔حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ کے متعدد افرادکو نبوت مبشرات " کا مقام حاصل ہے۔جیسا کہ ایک حدیث بھی اس طرف اشارہ کرتی ہے جس کے الفاظ یہ ہمیں لَمْ يَبْقَ مِنَ النُّبُوَّةِ إِلا الْمُبَشِّرَاتُ یعنی نبوت تشریعات تو ختم ہوگئی ہے لیکن نبوت مبشرات جاری وساری ہے۔یہ نظریہ قرآن کریم کی متعدد آیات اور مستند احادیث پر مبنی ہے جن میں سے چند یہ ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَن يطع اللهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَيكَ مَعَ لَذِينَ أنعم الله عليهم من النيين والصديقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَ اليواقيت والجواهر للشعرانی جلد ۲ صفحه ۲۵ المطبعة الازهرية المصرية ١٣٠٦هـ طبع دوم۔الانسان الكامل فى معرفة الاواخر والاوئل للسيد عبد الكريم الجيلي۔البحث الخامس والثلاثون في محمد صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين كما صرح به القرآن جلد ۲ صفحه ۱۰۹ مطبوعہ ۱۳۰۰ھ۔اسی مقام کا دوسرا نام " امتی نبی بھی ہے۔سے حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام سے ایک مرتبہ سوال کیا گیا کہ کیا ایک ہی وقت میں کئی نبی ہو سکتے ہیں؟ فرمایا۔ہاں۔خواہ ایک ہی وقت میں ہزار بھی ہو سکتے ہیں مگر چاہئے ثبوت اور نشان صداقت ( ملفوظات جلده اصغری ۲۸ مطبوع الشركة الاسلامیہ ) 22