تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 345 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 345

تاریخ افکا را سلامی ۳۴۵ آنے کے مفہوم اور اس کے تمثیل ہونے کے معنے کو نہ سمجھ سکے اور یہ عقیدہ بنالیا کہ ان پیشگوئیوں کے مطابق مسیح نے خود دوبارہ آتا ہے حالانکہ جب سے دنیا آبا دہوئی ہے اُسی وقت سے الہی سنت یہی رہی ہے کہ جو گیا وہ واپس نہیں آیا اور کسی نے کسی کو وفات کے بعد دوبارہ آسمان سے اتر تے نہیں دیکھا۔حضرت ایلیا کے آسمان سے اترنے کی پیشگوئی بائیل میں موجود ہے لیکن خود مسیح نے اس کی یہ تشریح فرمائی کہ خود ایلیا دوبارہ نہیں آئے گا بلکہ اُس کے آنے سے مراد اُس کے مثیل بیٹی کا آتا ہے جو ایلیا کی ٹھو بو لے کر آیا ہے۔ایسا ہی مسیح کے ماننے والوں نے "محمدیم۔مُنحَمنا اور روح حق کو نہ پہنچانا اور نہ اُن کے بھائیوں میں سے“ کے مفہوم کو سمجھے اور نہ دس ہزار قد وسیوں کے معنوں پر غور کیا اور کہا تو یہی کہا کہ ” وہ نبی ابھی تک نہیں آیا۔اب یہی غلطی اُن سے اِس زمانہ میں بھی ہوئی اور مسیح کے دوبارہ آنے کے مفہوم کو غلط سمجھا جس نے آنا تھا وہ تو وقت پر ضرورت کے عین مطابق آگیا اور اب تا قیامت وہ کسی کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھیں گے۔۔۔وَلَنْ تَجِدَ لِسْتَةِ اللهِ شَدِيلا - اب ہم اس سوال کو لیتے ہیں کہ مسلمانوں کی اصلاح کے لئے کسی عظیم مصلح اور مسیح کے آنے کے بارہ میں اسلام کیا کہتا ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کو کس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اس تعلق میں جو اصول وہدایات اور جو پیشگوئیاں اور روایات اسلام کی چودہ سو سالہ دینی کتب میں تواتر کی حد تک موجود ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔اسلام بھی یہی کہتا ہے اور دنیا کے تمام سنجیدہ اور دیندار لوگ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ جب بھی دنیا میں فساد بڑھا، انسانی اقدار کو خطرہ لاحق ہوا ند ہیں انار کی کا غلبہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اُس کے تدارک کے سامان کئے ، اپنے مامور بھیجے اور اُن کے ذریعہ پھر سے اصلاح کی ایک نئی زمین اور ہدایت کا ایک نیا آسمان معرض ظہور میں آیات۔خدا وند تعالیٰ کے یہ مرسل اور مامور دو قسم کے ہوئے ہیں ایک وہ جو آسمان سے ایک نیا قانون اور ایک نئی شریعت لائے ، ایک نئے تمدن اور ایک نئی تہذیب کی بنیا درکھی اور ایک نئی اُمت اور ایک نئی قوم بنائی۔اس قسم کے مامورین اور مرسلین کا سلسلہ حضرت آدم یا حضرت نوح علیہا السلام سے الاحزاب : ٦٣ البقرة: ٣٩ و ال عمران : ۸۲