تاریخ افکار اسلامی — Page 346
تاریخ افکارا سلامی مسم شروع ہوا اور سردار دو عالم حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلے اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا۔آپ کی شریعت آخری شریعت ہے، آپ کی امت آخری امت ہے ، آپ کا کلمہ آخری کلمہ ہے ، آپ پر نازل شده قرآن کریم خداوند تعالیٰ کا آخری شرعی کلام ہے اس کے بعد آسمان سے کوئی اور کتاب احکام نازل نہ ہوگی لیے۔دوسری قسم میں وہ مرسلین اور مامورین شامل ہیں جو شارع نبی کے تابع ہو کر آتے ہیں۔اُس کی شریعت کی پیروی کرتے ہیں اور اُس کی امت میں جو خرابیاں امتداد زمانہ کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہیں ان کی اصلاح کرتے ہیں۔افراد امت کے ایمانوں کو تازہ کرتے ہیں۔اپنے ذاتی نمونہ اور نشانات اور مبشرات کے ذریعہ لوگوں کی عملی حالت کو درست کرتے ہیں شریعت کے صحیح منشاء کی وضاحت کرتے ہیں اور دین کی خاطر قربانیاں پیش کرنے کے صحیح رخ کی تعین کرتے ہیں اور امت کے منتشر لوگوں کو ایک نقطہ پر جمع کر کے ان کی امامت کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں اور لفظی اور زبانی مسلمانوں کو حقیقی مسلمان بناتے ہیں ہے۔H غرض ان کی کوششیں شریعت کے اندر اُس کے قیام اور اُس کی برکات کی توسیع اور اتحاد امت کے عظیم مظاہر پر مشتمل ہوتی ہیں۔ایسے مامورین اور مرسلین کی پیروی میں برکات ہیں۔خدا کی رضا ہے۔شریعت کی عملی تفسیر کا اتباع ہے نیز ان کو ماننے والے اخلاص کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں لیکن امت کے جو لوگ ایسے مامورین کو نہیں مانتے اور ان کا انکار کرتے ہیں۔وہ اگر چه دائره امت سے خارج نہیں ہوتے لیکن جماعت کے لئے ان کا وجود غیراہم ہو جاتا ہے۔وہ اتحاد ملی اور نفاذ شریعت کی متحدہ کوششوں کی برکات سے محروم رہتے ہیں اور اُن کی ساری سرگرمیاں اخلاص کی دولت اور رضائے الہی کی نعمت سے خالی ہوتی ہیں اور دنیا طلبی ان کا نشان بن جاتی ہے ہے۔↓ سابقہ امتوں میں ایسے مامورین کی مثال کے لئے حضرت یعقوب ، حضرت یوسف ، حضرت المائدة: ٢ البقرة :۸۸- الانعام: ۹۱۲۸۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ہم کسی کلمہ گو کو اسلام سے خارج نہیں کہتے“ ( ملفوظات جلد ۱ صفحہ ۳۷۶۔مطبوعه الشركة الاسلامية) البقرة : ۱۰۳ و ۲۰- ال عمران: ۷۸ - البقرة: ۲۸۶ نفس مضمون