تاریخ افکار اسلامی — Page 344
تاریخ افکا را سلامی جیسا کہ نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن آدم کے آنے کے وقت ہوگا کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اُس دن تک کہ نوح کشتی میں داخل ہوا اور جب تک طوفان آکر اُن سب کو بہا نہ لے گیا ان کو خبر نہ ہوئی اسی طرح ابن آدم کا آنا ہوگا۔۔۔۔پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے تمہارا خداوند کسی دن آئے گا۔جس گھڑی تم کو گمان بھی نہ ہو گا ابن آدم آجائے گا لے۔کتاب اعمال میں مسیح کے دوبارہ آنے کی یہ پیشگوئی اس طرح ہے تو بہ کرو اور رجوع لاؤ کہ تمہارے گناہ مٹائے جائیں اور اس طرح خداوند کے حضور سے تازگی بخش اتیام آئیں اور وہ یسوع مسیح کو پھر بھیجے جس کی منادی تم لوگوں کے درمیان آگے سے ہوئی۔ضرور ہے کہ وہ آسمان میں اس وقت تک رہے جب تک کہ وہ سب چیزیں بحال نہ کی جائیں جن کا ذکر خدا نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی شروع سے کیا ہے اپنی حالت پر آدیں کیونکہ موسیٰ نے باپ دادوں سے کہا کہ خداوند جو تمہارا خدا ہے تمہارے بھائیوں میں سے تمہارے لئے ایک نبی میری مانند اٹھا دے گا جو کچھ وہ تمہیں کہے اُس کی سب سنو۔اور ایسا ہوگا کہ ہر نفس جو اُس نبی کی نہ سنے وہ قوم میں سے نیست کیا جائے گا بلکہ سب نبیوں نے سموئل سے لے کر پچھلوں تک جتنوں نے کلام کیا ان دنوں کی خبر دی ہے تم نبیوں کی اولا د اور اُس عہد کے ہو، جوخدا نے باپ دادوں سے باندھا ہے جب ابراھام سے کہا کہ تیری اولاد سے دنیا کے سارے گھرانے برکت پاویں گے۔تمہارے پاس خدا نے اپنے بیٹے یسوع کو اٹھا کے پہلے بھیجا کہ تم میں سے ہر ایک کو اُس کی بدیوں سے پھیر کے برکت دے تے۔بائیل کی یہ پیشگوئیاں اپنے مفہوم کے لحاظ سے بالکل واضح ہیں لیکن اس کے باوجود مسیح کے ماننے والوں کا طرز عمل وہی ہے جو مسیح کے وقت کے لوگوں کا تھا کیونکہ یہ لوگ بھی مسیح کے دوبارہ لا متی باب ۲۴ آیت ۴۴۲۳۷ اعمال باب ۳ آیت ۱۹ تا ۲۶۔اس پیشگوئی میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی بعثت اولی اور بعثت ثانیہ دونوں کا ذکر ہے جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ الجمعہ آیت نمبر ۴ میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔