تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 329 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 329

تاریخ افکا را سلامی ٣٢٩ کے معیار کا انہیں نظر نہ آیا اور اسی وجہ سے وہ کرشن مہاراج کے بعد ہر آنے والے عظیم مصلح کو ماننے کی سعادت سے محروم ہو گئے۔یہی حال دنیا کے دوسرے قدیم مذاہب مثلا مجوسیت اور بدھ مت وغیرہ کے ماننے والوں کا ہے۔اُن کے ہاں بھی مصلحین کے آنے کی پیشگوئیاں ہیں لیکن ان پیشگوئیوں کے بارہ میں جو تصور ان کا قائم ہوا اُس کے عین مطابق وہ کسی عظیم ہادی کو نہ پا کر اُس کے صدق کے منکر ہو گئے۔یہودیت، عیسائیت اور اسلام تاریخی اور روایتی لحاظ سے زیادہ محفوظ مذاہب ہیں اور ان میں اس قسم کی پیشگوئیاں بکثرت ہیں جن میں کسی عظیم موعود اور مصلح کے آنے کی خبر دی گئی ہے اور ان کی تفصیلات کا معلوم کرنا نسبتا زیادہ آسان بھی ہے اس لئے ان پیشگوئیوں کی حقیقت جاننے کے لئے کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے لیکن ضد اور ہٹ دھرمی اب بھی پیچھا نہیں چھوڑتی۔بائیل میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا۔میں تجھے برکت پر برکت دوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے پر تا روں اور سمندر کے کناروں کی ریت کی مانند کر دوں گا اور تیری اولا داپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب تو میں برکت پائیں گی کیونکہ تو نے میری بات مانی ملے۔اس پیشگوئی کی تفصیل کے دو حصے ہیں۔ایک حصہ کا تعلق حضرت ابراہیم کے چھوٹے بیٹے حضرت الحق کے ساتھ ہے جس کے صدق، جس کی عظمت اور برکت کے یہودی اور عیسائی اب بھی قائل ہیں اور اس کے ساتھ بڑی عقیدت رکھتے ہیں۔اس پیشگوئی کے دوسرے حصہ کا تعلق حضرت ابرا ہیم کے بڑے بیٹے حضرت اسمعیل کے ساتھ ہے جس کی وضاحت بائبل نے اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابرا ہیم کو مخاطب کر کے فرمایا۔”اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری سنی۔دیکھ میں اُسے برکت دوں گا اور اُسے یرومند کروں گا اور اُسے بہت بڑھاؤں گا۔اور میں اُسے ایک بڑی قوم بناؤں گا تے تا ہم یہودی اور عیسائی پیشگوئی کے اس حصہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور باوجوداس کے واضح پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۸۰۱۷ پیدائش باب ۱۷ آیت ۲۰