تاریخ افکار اسلامی — Page 328
تاریخ افکا را سلامی ۳۲۸ گھراؤ کئے ہوئے ہیں جن سے معاشرہ کا امن وامان تباہ ہو جاتا ہے اور دنیا الامان الحفیظ پکا راٹھتی ہے یہی حالات ہوتے ہیں جن کی بنا پر اللہ تعالی کی طرف سے مامور اور مرسل آتے ہیں جو تزکیہ نفس اور کتاب و حکمت کے ذریعہ بھکی ہوئی روحوں کو سیدھی اور کامیاب زندگی کی راہ دکھانے کا عملی فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ان مرسلین اور مصلحین میں سے بعض " خاص اور معین وجودوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے خوشخبری دینے کی سنت الہی بھی تمام آسمانی مذاہب میں مسلم چلی آتی ہے یعنی آسمان سے یہ خبر دی جاتی ہے کہ فلاں وقت اور ان علامتوں کے ساتھ ایک عظیم مصلح آئے گا جو دنیا کی ہدایت کا فریضہ سرانجام دے گا۔اس الہی سنت کے بالمقابل گمراہ اور مریض دنیا کا طرز عمل ہمیشہ یہ رہا کہ جب بھی کوئی ایسا عظیم موعودہا دی اپنے صدق کی علامات کے ساتھ آیا دنیا کے ایسے عناصر نے اُس کا انکارکیا اور اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اُس کے ساتھ تکبر اور استہزاء، استعلاء اور افتراء کا معاملہ کیا۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ کسی پیشگوئی میں تمثیل اور استعارہ غیب اور خفا کی جو آمیزش ہوتی ہے اُسے یہ لوگ سمجھ نہیں سکتے اور اس پیشگوئی کو ظاہر پر محمول کرتے ہیں اور اُس کے غلط معے سمجھتے ہیں اور پھر اس غلط روش پر اصرار کی وجہ سے قبول حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔دنیا کا قدیم ترین مذہب ہندومت ہے۔اس مذہب کے ہادی حضرت کرشن مہاراج لے کی طرف سے یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب جب کل جنگ کا دور ہوگا اور دنیا میں انتہائی پستی اور گراوٹ پیدا ہوگی تب تب وہ اس پاپ کو دور کرنے کے لئے پھر سے جنم لیں گے اور اس دنیا میں واپس آئیں گئے تھے۔لیکن با وجود اس واضح پیشگوئی کے ہندو آج تک کسی عظیم بادی کو کرشن کا اوتار نہ مان سکے کیونکہ اوتار" کا جو تصور ہندوؤں نے اپنے ہاں اپنا یا اُن کے اس تصور کے مطابق کوئی ظہور کرشن لا كَانَ فِي الْهِنْدِ نَبِيُّ أَسْوَدَ اللَّوْنِ اسْمُهُ كَاهن لملفوظات جلده ۱ صفحه ۱۳۳ مطبوعہ الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ تاریخ ہمدان دیلمی، باب الکاف ( نوٹ ) اس کتاب کا ایک قلمی نسخہ حیدرآباد دکن کے کتب خانہ میں موجود ہے۔گیتا ادھیائے نمبر ۴ شلوک نمبر۷ ۸۰