تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 317 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 317

تاریخ افکا را سلامی ۳۱۷ قیادت کی انہیں تلاش یا تمنا ہے۔پس آپس کی نفرتوں کو فروغ دینا اور خود اپنے ہاتھوں اتحاد اور یگانگت کے تقاضوں کو سبوتا شکرنا ان کا مقصد تنظیم ہے۔اسی کا نام ہے، یہ عکس نہند نام زنگی کافور۔تحریک انکارِ حدیث مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی، حافظ محمد اسلم صاحب جیراج پوری اور غلام احمد صاحب پرویز۔سرسید احمد خاں صاحب کا بحیثیت ماخذ شریعت حدیث کے بارہ میں جو رویہ تھا اُس سے انکار حدیث کے رجحان کو فروغ ملا۔چنانچہ اہل قرآن اسی رجحان کی پیداوار ہیں۔اس تحریک کے روح رواں مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی جامعہ ملیہ کے پروفیسر حافظ محمد اسلم جیراج پوری اور رسالہ طلوع اسلام کے مدیر غلام احمد صاحب پرویز تھے۔ان میں سب سے زیادہ مستحکہ خیز طر ز عمل مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی کا تھا۔ان کے نزدیک حدیث کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی۔ان کا موقف یہ تھا کہ مسائل اسلام کو سمجھنے کے لئے حدیث کی کوئی ضرورت نہیں صرف قرآن کافی ہے لیکن جب وہ اپنے اس دعوی کی تفصیلات میں الجھے تو انتہائی بو دے استدلال اور دور کی کوڑی لانے کی راہ پر چل پڑے۔نمازیں پانچ کی بجائے تین رہ گئیں۔یہی حال روزہ، حج اور دوسرے مسائل کا ہوا۔جامعہ ملیہ کے پروفیسر حافظ محمد اسلم صاحب جیراج پوری نے مولوی عبد اللہ چکڑالوی کے کمزور پہلو کو بھانپتے ہوئے انکار حدیث کے نظریہ میں کچھ ترمیم کی اور یہ خیال پیش کیا کہ مسائل عبادات کے تعین کے لئے تو قرآن کریم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل متواتر کی پابندی ضروری ہے باقی دینی مسائل کے تعین کے بارہ میں حدیث کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ان مسائل کا فیصلہ ہر زمانہ کا مرکز ملت کرے گا۔رسالہ طلوع اسلام کے مدیر غلام احمد صاحب پرویز نے اس نظریہ میں مزید ترمیم کی۔ان کی رائے میں دین اور دنیا ، عبادات اور معاملات کی تفریق غیر اسلامی اور مجھی سازش ہے اس لئے مسئلہ عبادات سے تعلق رکھتا ہو یا معاملات سے اگر قرآن کریم میں اس کی تصریح نہیں ملتی تو اس کا تعین ہر زمانہ کا مرکز ملت کرے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی روشنی میں جو تفصیلات طے فرمائیں