تاریخ افکار اسلامی — Page 318
تاریخ افکا را سلامی C FIA وہ بحیثیت مرکز ملت کے ہی طے فرمائی تھیں۔یہی مقام خلفاء راشدین کا تھا اور پھر اسی مقام اور اسی اختیار کا حامل ہر زمانہ کا مرکز ملت ہے۔وہ چاہے تو سابقہ سنت و دستور کو قائم رکھے اور چاہیے تو زمانہ کے تقاضا کے مطابق اس میں تبدیلی کرے۔اس لحاظ سے پرویز صاحب کے نزدیک احادیث کی حیثیت تاریخی ہے دیتی نہیں کہ طَابَقَ النَّعْلُ بِالنَّعْلِ کے طور پر ان کی اتباع ضروری ہو لے علامہ سر محمد اقبال صاحب کا موقف حدیث کی دینی حیثیت کے بارہ میں علامہ سر محمد اقبال کا موقف مولانا عبید اللہ صاحب سندھی اور حافظ محمد اسلم صاحب جیراج پوری کے موقف سے ملتا جلتا ہے۔وہ میدان اجتہاد کی اُس وسعت کے قائل تو نہیں جس کے داعی غلام احمد صاحب پرویز ہیں لیکن اخبار احاد کی شرعی حیثیت ان کے ہاں بھی مشتبہ ہے۔علامہ مرحوم نے اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے ثبات و تغیر“ کی اصطلاح استعمال کی ہے یعنی ایمانیات اور عبادات سے متعلق جو اصول قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ سنت متواترہ کھول کر بیان کر دیئے ہیں ان میں کسی قسم کی تبدیلی کی گنجائش نہیں البتہ دوسرے مسائل میں اجتہاد کا میدان وسیع اور آزاد ہے۔کوئی حدیث اس وسعت کو محدود نہیں کر سکتی اس لئے ان مسائل میں اجتماعی اجتہاد کے ادارے تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔اس طرح ان کے نزدیک مسائل دینیہ کا ایک حصہ ثبات کے دائرہ کے اندر ہے اور دوسرا حصہ تغیر و تبدل کی آماجگاہ ہے جسے اصول دین کا سا تقدس اور ثبات حاصل نہیں ہے جہاں تک تفاصیل کی ترتیب اور عملی اقدامات کا تعلق ہے چند فلسفیانہ تجاویز اور آراء کے سوا علامہ اقبال بھی کوئی تنظیمی یا انقلابی کارنامہ سرانجام نہ دے سکے۔ٹوسٹ "تجدید النہیات اسلامیہ پر علامہ کے اصل لیکچر انگریزی میں تھے جن کا ترجمہ سید نذیر نیازی صاحب نے اُردو میں کیا جسے تشکیل جدید الہیات اسلامیہ" کے نام سے بزم اقبال لاہور نے شائع کیا۔سلفی اور دیوبندی تحریک ۳۔اٹھارھویں صدی میں محمد بن عبد الوہاب نجدی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے ذریعہ تقلید کے قرآنی دستور پاکستان صفحه ۲۱ - مقام حدیث صفحه ۶۳ تشکیل جدید البیات اسلامیه صفحه ۲۲۸۰۲۲۷ ۲۶۳ تا ۲۶۷- ناشر بزم اقبال زسنگھے گارڈن کلب روڈلاہور