تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 257 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 257

تاریخ افکا را سلامی ۲۵۷ اس تعصب کا ہی نتیجہ تھا کہ سنی فاطمی حکومت سے بد دل اور متنفر تھے لے ۴۱۱ ھ میں الحاکم بامر اللہ فوت ہو گیا بعض روایات کے مطابق اُسے قتل کر دیا گیا۔اس کے بعد اس کا بیٹا الظاہر والی بنا۔اس کی پالیسی نرم تھی۔اس نے بڑی عقل مندی اور بُردباری کا ثبوت دیا۔اپنے والد کے زمانہ کے بہت سے احکام جن سے تعصب اور تشدد کا رنگ جھلکتا تھا منسوخ کر دیئے اور رعایا بڑی حد تک مطمئن ہوگئی لیکن اُس کی وفات کے بعد المُستنصر کے عہد میں تشدد کا عفریت پھر جاگ اُٹھا اور کافی عرصہ جاری رہا۔آخر کا ر ۵۶۴ھ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں جب دولت فاطمیہ کا خاتمہ ہوا تو اس کے ساتھ ہی سنیوں نے بھی اطمینان کا سانس لیا لیکن شیعوں کی شامت آگئی اور ایوبی امراء نے بطور پالیسی چھن چھن کر اسماعیلی شیعوں کو ختم کیا۔وہی بچے جو یمن یا ہند کی طرف بھاگ گئے اور کچھ شام اور لبنان کے پہاڑوں اور جنگلوں میں چھپ گئے۔فاطمی حکومت کے زمانہ میں ہی خلافت عباسیہ کے زوال کا آغاز ہوا۔خلفاء عباسیہ کو بَنُوبُوَیہ نے جو شیعہ تھے ایک کھلونا بنا رکھا تھا۔اُن کی دلی ہمدردیاں فاطمی خلفاء کے ساتھ تھیں۔اگر بعض سیاسی مفاد آڑے نہ آتے تو بنو بویہ نے خلافت عباسیہ کو ختم کر کے خلفاء فاطمیہ کی حکومت کا اعلان کر دینا تھا تے لیکن بنو بویہ کو مشورہ دیا گیا کہ بنو فاطمہ کی حکومت میں ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔بنو عباس کو تو تم لوگ عقیدۂ غاصب سمجھتے ہو ان کے ساتھ تمہاری کوئی مذہبی عقیدت نہیں اس لئے جس طرح چاہتے ہو اُن سے سلوک کرتے ہو لیکن اگر بنو فاطمہ ادھر آگئے تو تم ایسا نہ کر سکو گے کیونکہ عقید ہ تم انہیں خلیفہ بر حق مانتے ہو اگر تم اُن کی بے ادبی کرو گے یا ان میں سے کسی کو تل کرو گے تو شیعہ پبلک تمہارے خلاف اُٹھ کھڑی ہوگی اور اس مخالفت کا سنبھالنا تمہارے لئے مشکل ہو جائے گا۔بہر حال قریباً ایک سال تک بغداد میں خلفاء بنو فاطمہ کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا رہا لیکن آخر کار اس پالیسی کو بدل دیا گیا اور حسب سابق خلفاء عباسیہ کے نام کا خطبہ جاری ہو گیا۔حل انصار الفاطميين۔۔۔۔۔محل السنيين في مناصبهم من ذالك نرى ان السنيين كانوا من اوّل حكم الفاطميين ينظر اليهم بعين السخط والكراهة تاريخ الدولة الفاطميين صفحه ۲۲۴) ولولا خوف البويهيين على نفوذهم السياسي لحوّلوا الخلافة الى العلويين اذ كانوا يفضلون الفاطميين على العباسيين من الناهية المذهبية تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٢٠٦، ٢٠٧) تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٢٢٣