تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 256 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 256

تاریخ افکار را سلامی ۲۵۶ مذہبی دعاوی نے بڑا عجیب رنگ اختیار کر لیا تھا۔ایک طرح سے اُس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔اسی زمانہ میں دروز کا فرقہ ظاہر ہوا جس کی تفصیل آئندہ آرہی ہے۔الغرض حاکم کے یہی دعا دی اُس کے قتل کا باعث بنے۔اسی زمانہ میں اُس نے دار الحکمت بھی قائم کیا جس میں اسماعیلی مذہب کی باطنی تعلیم دی جاتی تھی اور باطنی نظریات پھیلانے کے لئے داعی تیار کئے جاتے تھے یا سنیوں کے بارہ میں فاطمیوں کی پالیسی خاصی سخت تھی۔خلفاء ثلاثہ اور صحابہ کو بر ملا گالیاں دی جاتی تھیں جس سے سیکیوں کے سینے چلتے۔جمعہ کے خطبوں میں سب وشتم کا رواج بڑھ گیا تھا۔مساجد کی دیواروں پر اور عام شاہراہوں پر یہ گالیاں لکھی جاتیں۔گلیوں میں لوگوں کو پھرایا جاتا اور مارا پیٹا جاتا اور منادی کی جاتی کہ هَذَا جَزَاءُ مَن يُحِبُّ اَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ۔۴۰۱ ھ کے قریب حاکم نے ارادہ کیا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی قبریں اکھیڑ دی جائیں اور روضہ میں صرف آنحضرت کی قبر رہنے دی جائے لیکن وہ اپنے اس مذموم ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکا ہے حکومت کے عہدوں میں سنیوں سے سخت تعصب برتا جاتا تھا۔کوئی اہم عہدہ سنیوں کے ہاتھ میں نہ رہا تھا حالانکہ ملک میں اکثریت سنیوں کی تھی۔خلیفہ العزیز نے سنیوں کو نماز تراویح اور نماز کی پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔جب ایک سنی عالم نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو اُسے گرفتار کر لیا گیا پھر اُس کی زبان کاٹ دی گئی اور آخر اُسے سُولی دے دی گئی۔بعض مؤرخین نے اس واقعہ کا انکار کیا ہے۔موطا امام مالک پڑھنے کی ممانعت کر دی گئی۔خصوصا حاکم کے زمانہ میں اس قسم کا تھنڈ دیڑھ گیا تھا۔کچھ عرصہ ایسا بھی آیا کہ حاکم بامر اللہ نے تعصب کی اس پالیسی میں نرمی کر دی لیکن یہ عرصہ تین سال سے آگے نہ بڑھا اور پھر سے تھد دشروع ہو گیا۔کے تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ٦٧٠١٦٦ ١و٢٢٣ عمل الفاطميون على لعن الخلفاء الثلاثة الأوّل وغيرهم من الصحابة (تاريخ الدولة الفاطميه صفحه ۲۱۸ و ۲۲۲) تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۲۱۹ مع حاشیه صفحه ۲۲۰ ۲۲۱ تاريخ الدولة العربيه صفحه ۲۲۱ ۲۲۳