تاریخ افکار اسلامی — Page 247
تاریخ افکا را سلامی ۲۴۷ اسماعیلی شیعہ حلول کے بھی قائل ہیں یعنی وہ یہ مانتے ہیں کہ خدا ائمہ میں داخل ہو جاتا ہے اُن میں سا جاتا ہے یا وہ ان معنوں میں خدا کے مظہر ہیں کہ خدائی طاقتیں اور خدائی قدرتیں ان کو عطا ہوتی ہیں۔وہ خدا کی طرح عالم الغیب ہوتے ہیں۔وہ زندہ بھی کر سکتے ہیں اور وہ ماربھی سکتے ہیں یہ رائے بھی دروز او ربعض آغا خانیوں کی ہے۔بہر اس کے قائل نہیں۔ے۔اسماعیلی شیعہ تاریخ کے بھی قائل ہیں اور مانتے ہیں کہ رومیں مختلف جونوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں اور یہی ان کے لئے قیامت ہے۔- اسماعیلی شیعه فیثا غورثی فلاسفہ کی طرح سات اور بارہ کے عدد کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔اُن کے کئی نظریات اور درجات میں ان اعداد کا عمل دخل ہے۔یے ان کا کہنا ہے کہ سیارے سات ہیں اور برج بارہ اسی لحاظ سے زمین پر بھی ان کی نیابت ہے۔اسی وجہ سے ان کے ہاں اتباع کے بھی سات درجے ہیں ہر درجہ کا متبع اپنے درجہ کے علمی اور عملی نصاب کو عبور کئے بغیر اگلے درجہ میں نہ جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ جان سکتا ہے کہ اُس درجہ کا علمی اور عملی نصاب کیا ہے۔اس طرح ایک اسماعیلی درجہ بدرجہ ترقی کرتے کرتے آخری درجہ تک پہنچ سکتا ہے جو داعی یا حجت کا درجہ ہے۔اسماعیلیوں کا کہنا ہے کہ علم الہی نبی کے ذریعہ وصی کو ملتا ہے مثلا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ حضرت علی علیہ السلام کو ملا پھر وصی سے امام کو ملتا ہے اور امام سے حجت کو ملتا ہے۔حجج، نتہاء اور دعا پسند ہی کا رکن ہوتے ہیں جو مختلف علاقوں میں اسماعیلی مذہب کے پھیلانے اور اسماعیلیوں کی تہذیب و تربیت کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔↓ ان داعى الدعاة اكبر الدرجات عند الاسماعيلية و لا تباعهم سبع درجات ان كلا من لهذه الدرجات له كتاب خاص و يلقى على الواصلين اليها وكل كتاب يسمى البلاغ الجميعات السرية صفحه ۴۲ - العقيلة و الشريعة صفحه ۲۱۵۰۲۱۴ الدولة الفاطمية صفحه ٣٣ صفحه ٦١ - فاذا بلغ الانسان الدرجة السابعة ينحل من جميع الأديان تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۱۸۲) ان ميراث النبي العلمى يتحوّلُ مِنَ النَّبي الى الوصى ومنه الى الامام ومن الامام الى الحجة۔۔۔۔۔والدعاة الذين يسمون الحجج يبثون الدعوة السرية فى غيبة الامام او في حضرته وهم مقدسون وعددهم ثابت ابداً اثنا عشر رجلا يشارك الحجج الأئمة في العلم والدعوة والسند الإلهي ( الشيعة في التاريخ صفحه ٦٢ العقيدة والشريعة في الاسلام صفحه ٣١٦) النقباء انصار الائمة (الحضارة الاسلامية جلد ۲ صفحه ۵۷)