تاریخ افکار اسلامی

by Other Authors

Page 248 of 433

تاریخ افکار اسلامی — Page 248

تاریخ افکا را سلامی ΕΠΑ اسماعیلی شیعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکثر صحابہ کے بارہ میں اچھی رائے نہیں رکھتے معتدل اسماعیلی شیعہ زیادہ سے زیادہ اس رائے کا اظہار کرتا ہے کہ علی کی بجائے ابو بکر کو خلیفتہ الرسول منتخب کرنے میں انہوں نے غلطی کی تھی لیکن چونکہ حضرت علی نے اپنا حق لینے کے لئے اُن سے لڑائی نہیں کی نیز وہ اُن سے تعاون کرتے رہے۔اسلام کی اشاعت اور مسلمانوں کی بہتری کے لئے اُن کے ساتھ رہے اس لئے ہمیں بھی حضرت علی کے نمونہ اور اُسوہ پر چلنا چاہیے۔غالی اسماعیلی صحابہ کو بُرا بھلا کہتے ہیں انہیں مسلمان نہیں سمجھتے اور پہلے خلفاء ثلاثہ کو غاصب اور ظالم قرار دیتے ہیں ہے اسماعیلی نظریات پس اسماعیلیوں کے نظریات کا خلاصہ یہ ہے کہ۔لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے امام کا ہونا ضروری ہے یہ امام اگر ظاہر اور لوگوں کے سامنے ہو تو وہ خود لوگوں کی رہنمائی کرے گا او راگر مستو را در لوگوں سے چھپا ہوا ہو تو اُس کے حجج اور دعاۃ اس کی نیابت کریں گے اور لوگوں تک اُس کے پیغام اور اُس کی ہدایتیں پہنچائیں گے تے - الامام المقیم جو رسول ناطق کو مقرر کرتا ہے اُسے ”رب الوقت بھی کہا جاتا ہے۔یہ امامت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔بعض کے نزدیک ابو طالب امام مقیم ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو الرَّسُولُ النَّاطِق مقرر کیا۔۔دوسرے درجہ پر الامام الاساس ہے جو الامام الناطق کی مرافقت اور معاونت میں کام کرتا ہے۔اس کا دایاں ہاتھ ہوتا ہے۔رسالت کبری کے کاموں کا قائم اور نگران ہوتا ہے۔کے على الامام الاساس ہیں۔دعائم الاسلام جلد ۱ صفحه ١٠٣ تا ١٠٦- العقيدة والشريعة في الاسلام صفحه ۱۸۲ و ۲۱۰ الامام اما ظاهر مكشوف و اما باطن مستور۔۔۔۔۔واذا كان الامام مستورًا فلا يدان تكون حجته و دعاته ظاهرين و ان الامام يساوى النبي في العِصْمَةِ وَالْإِطِلَاعِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۱۸۹ و ۱۹۱) القائم باعمال الرسالة الكبرى والمنفذ للا وامر العليا (تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ۱۷۲)