تاریخ افکار اسلامی — Page 246
تاریخ افکا را سلامی ۲۴۶ ہیں۔اس کے بعد اختلاف ہو جاتا ہے۔اسماعیلی شیعہ امام جعفر صادق کے بعد اُن کے بڑے لڑکے اسماعیل اور ان کی اولا د کو اپنا امام مانتے ہیں اور اثنا عشری شیعہ ان کے دوسرے لڑ کے موسیٰ الکاظم اور ان کی اولا د کو امام تسلیم کرتے ہیں۔۳ اسماعیلی شیعہ قرآن کریم کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ امام صامت ہے اور ان کے ائمہ امام ناطق ہیں اس لئے قرآن کریم کے جو معنے اور جو تفسیر وہ بیان کریں وہی درست ہے مثلاً اگر وہ کہیں کہ قرآن کریم میں اقيموا الصلوة کا جو حکم ہے اُس سے مراد ائمہ اہل بیت سے محبت، اخلاص اور ان کی فرمانبرداری کا اظہار ہے، تو یہی معنے درست ہوں گے اور ان کی نادیل ہی صحیح تسلیم کی جائے گی کیونکہ قرآن کریم کا ایک ظاہر ہے او را یک باطن اور باطن کا علم صرف امام کو ہی ہوتا ہے۔۴۔امام کو مان لینے اور اس کی فرمانبرداری کا عہد کر لینے کے بعد تمام شرائع اور دین کے تمام احکام سے انسان آزاد ہو جاتا ہے۔گلے بعض اسماعیلیوں کے نزدیک امام اسماعیل کے بیٹے امام محمد خاتم النيين " القائم صاحب الثرمان ہیں انہوں نے شریعت اسلامیہ کو منسوخ کر دیا ہے کیونکہ ہر شریعت کے سات ائمہ ہوتے ہیں جب ان سات کا دور ختم ہو جائے تو نئی شریعت کا آنا ضروری ہے چنانچہ امام اسمعیل پر سابقہ ائمہ کا دو رختم ہو گیا اور امام محمد سے نیا دور شروع ہوا ھے ل الامامة لا تنتقل من اخ الى اخ بعد الحسن والحسين عليهما السلام ولا تكون إلا في الاعقاب - تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ١٨٣ الدولة الفاطمية صفحه ۳۸ دعائم الاسلام جلد 1 صفحه ۴۷) الف- أهم الفرق التي خرجت على الجماعة وأضَرَّتَ بالاسلام فرق الباطنية ادْعُوا أَنَّ لِكُلِّ ظَاهِرِ بَاطِنَا وَلِكُل تنزيل تأويلا الاسلام والخضارة العربية صفحه ٦٣ - العقيدة والشريعة في الاسلام صفحه ۲۱۸) ب تاویل کی امثلہ کے لئے دیکھیں تاريخ الفرق الاسلامية صفحه ١٩٣ سے دعائم الاسلام جلدا صفحه ۶۵ نیز یہ ایک فریق کا مسلک ہے جس کی نمائندگی زیادہ تر آغا خانی اسماعیلی کرتے ہیں یا دروز۔دوسرے فریق کے لوگ جو ئبرہ اور خوجے کہلاتے ہیں اور مستعلیہ بھی وہ نماز، روزہ اور حلال و حرام کے احکام کے قائل اور پابند ہیں۔ان کی فقہی تشریحات کے لئے کتاب دعائم الاسلام کا مطالعہ مفید رہے گا۔(تاریخ الفرق الاسلامية صفحه ۱۹۵ ۱۹۶) یہ گروہ المبار کیہ کہلاتا تھا تاريخ الدولة الفاطمية صفحه ۶۱ ه العقيدة والشريعة صفحه ۲۱۴۲۱٣