تاریخ افکار اسلامی — Page 218
تاریخ افکا را سلامی PIA العِصْمَة انبیاء کی طرح امام بھی معصوم ہوتے ہیں۔دینی رہنمائی میں وہ غلطی نہیں کر سکتے کیونکہ نبی کی طرح ان کی ذمہ داری بھی لوگوں کی رہنمائی ہوتی ہے اگر اس بارہ میں اُن سے غلطی کا امکان ہو تو امان اور اعتما داُٹھ جائے گا لے " الْمَهْدَوِيَّة - قریباً سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب امت محمدیہ بگڑ جائے گی تو اس کے بگاڑ کوڈ ورکرنے اور اس کی شوکت رفتہ کو بحال کرنے کے لئے ایک عظیم الشان وجود مبعوث ہو گا جس کا موعود نام معبدی بتایا گیا ہے۔شیعہ اثنا عشریہ کے نزدیک یہی تنظیم وجود "مہدی منتظر ہے یعنی جب وہ پیدا ہوا تو بعض حالات کی بنا پر بالفاظ دیگر الہی تقدیر کے تحت غائب ہو گیا اور اس وقت اپنا مشن پورا نہ کر سکا لیکن کسی مناسب وقت میں جس کا علم خدا کو ہے وہ اس دنیا میں واپس آئے گا۔عظیم الشان فتوحات حاصل کرے گا ظلم و جور کا قلع قمع کرے گا۔عدل وانصاف کی وجہ سے سب کے دل جیت لے گا۔شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدہ کے مطابق یہ مہدی منتظر محمد بن الحسن العسکری ہیں جو بچپن میں ہی غائب ہو گئے تھے اور دوبارہ آنے کے لئے اللہ کے حکم اور اس کی طرف سے اجازت کے منتظر ہیں ہے۔الرَّجُعَة - رَجْعَت کے معنے یہ ہیں کہ دُنیا سے جانے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں واپس آنا خواہ فوت ہو جانے کے بعد خواہ زندہ آسمان کی طرف چلے جانے یا زمین کے کسی حصہ میں غائب ہو جانے کے بعد۔رجعت کا عقیدہ دراصل ”مہدی منتظر کے عقیدہ کے ساتھ وابستہ ہے۔ہوا یوں کہ ایک امام کے ساتھ بہت ہی اُمیدیں وابستہ کی گئیں کہ وہ یوں دشمنوں پر غالب آئے گا، اپنے پیروؤں کے ساتھ سارے مصائب کا خاتمہ کر دے گا ، ظالموں کو نیست و نابودکر دے گا، عدل وانصاف سے دنیا کو بھر دے گا لیکن ان سب امیدوں کے بر عکس لوگوں کی بدقسمتی سے وہ اپنے مشن کی تکمیل سے پہلے فوت ہو گیا یا دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو گیا تو اس کے پیروؤں میں یہ خیال بطور عقید ہ عام ہو گیا کہ ان کے یہ امام فوت نہیں ہوئے بلکہ غائب ہو گئے ہیں اور کسی وقت دوبارہ آکر اپنے مشن کو پورا کریں گے۔اس طرح اس خیال نے مہدی منتظر کے عقیدہ کو جنم دیا۔بعض کے نز دیک وہ امام فوت تو ہو گئے لیکن دوبارہ زندہ ہو کر وہ اپنے مشن کی تکمیل کریں گے۔بہر حال شیعہ اثنا عشریہ " تصحيح الاعتقاد صفحه ۶۱ - عقيدة الشيعة صفحه ۲۲۴ ا فرق الشيعة صفحه ۴۲۲۳۸ - البیان فی اخبار صاحب الزمان صفحه ۳۰۵