تاریخ افکار اسلامی — Page 217
تاریخ افکارا سلامی شیعہ اثناعشریہ کے بعض مخصوص مسائل ۲۱۷ الإمامة - شیعہ حضرات کے نزدیک مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور قیادت کے لئے امام کا ہونا ضروری ہے۔یہ امام بذریعہ نص اور وصیف اہل بیت النبی میں سے نامزد ہو گا۔پہلے تین امام حضرت علیؓ، حضرت حسن اور حضرت حسین با علام الہی آنحضرت ﷺ کی طرف سے منصوص ہیں یعنی حضور ﷺ نے ان کے حق میں وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد یہ مینوں یکے بعد دیگرے امام ہوں گے اور اُمت کی قیادت کا فریضہ سرانجام دیں گے۔اس کے بعد ہر امام کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے جانشین کے بارہ میں وصیت کرے کہ میرے بعد اہل بیت یعنی حضرت علی کی فاطمی اولاد میں سے فلاں امام ہو گا۔غرض شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کے نزدیک امامت اور دینی قیادت نص ومتمہیں اور وراثت کی بنا پر قائم ہوتی ہے اس بارہ میں اُمت مسلمہ کو انتخاب یا شوری کا کوئی حق حاصل نہیں لے وصیت - شیعہ اثنا عشریہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو حکم تھا کہ وہ وفات سے پہلے اپنی جانشینی کے لئے علی کے بارہ میں وصیت کر جائیں۔چنانچہ آپ نے حسب الحکم یہ اعلان فرمایا کہ میرے بعد علی امت مسلمہ اور قائد ہوں گے اس لئے علی وصی اللہ اور وصی الرسول اور خلیفہ بلا فصل ہیں اوران کے بعد ان کی فاطمی اولاد بطریق وصیت ونص اس منصب پر فائز ہوتی چلی جائے گی کو بارھویں امام پر یہ وصیت ختم ہے۔کہے العلم - قرآن کریم اور دین کا علم امام کو اللہ تعالی اُس کے رسول یا امام سابق کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے گویا ان علوم کا وہ پیدائشی عالم ہوتا ہے۔اُسے کسی اور سے پڑھنے اور دینی علم سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ایسے علم کا اصطلاحی نام علم لدنی ہے جو آیت کریمہ عَلَّمْنَة مِنْ لَدْنَا عِلْمًا سے ماخوذ ہے۔اصول الکافی صفحه ۳۹ اصل الشيعة و اصولها صفحه ۷۴۶۸ - طرائق الحقائق جلد ۲ صفحه ۷ الكهف : ٦٦ ليس يحتاج احد منهم ان يتعلم من احد منهم ولا من غيرهم۔العلم ينبت في صدورهم كما ينبت الزرع المطر فالله عز وجل علمهم بلطفه كيف شاء فرق الشيعة صفحه ۵۶۰۵۵ ه اصول الکافی صفحه ۶۱۲۵۲۔فرق الشيعة صفحه ۵۶