تاریخ افکار اسلامی — Page 183
تاریخ افکا را سلامی ۱۸۳ ظاہری مذہب اور اس کے بانی ظاہری مذ ہب سے مراد فقہ سے متعلق یہ نظریہ ہے کہ شرعی احکام کی بنیا دصرف نصوص ہیں یا اس کے لئے کسی قیاس ، مصالح مرسلہ یا دوسرے ذرائع استنباط کی ضرورت نہیں۔سارے مسائل زندگی نصوص سے حل ہو سکتے ہیں اور اگر کسی مسئلہ کے بارہ میں کوئی واضح نص نہ مل سکے تو پھر اس شرعی اصل سے کام لینا چاہیے کہ شرعا ہر چیز مباح اور جائز ہے سوائے اس کے کہ نص نے اس سے منع کر دیا ہو۔اس اصل کا شرعی نام استصحاب ہے اور اس کی تفصیل گزشتہ صفحات میں بیان کی جا چکی ہے۔استصحاب کے اصل کی بنیا د قر آن کریم کی جن آیات پر ہے ان میں سے دو یہ ہیں: هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ فَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعا ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے پیدا کیا ہے۔وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَر وَمَتَاع إلى حين سے کہ تمہارے لئے اُس نے مانڈ رکیا ہے کہ وفات تک تم اس زمین میں رہو گے اور اس سے اپنا سامان زندگی حاصل کرو گے۔اس نظریہ کے بانی داؤ دبن علی الاصبہانی تھے۔ان کے بعد اس مسلک کے سب سے بڑے حامی اور شارح 1 ابن حزم الاندلسی ہیں جو پانچویں صدی کے فقیہ اور مجتہد تھے۔لا علم في الاسلام الا من نص (محاضرات صفحه (٣٧٦ ٢ البقرة: ٣٠ ٣ البقرة : ٣٧