تاریخ افکار اسلامی — Page 184
تاریخ افکا را سلامی ۱۸۴ حضرت امام داؤد بن علی النظا ہری الاصبہانی امام داؤ د بن علی ۲۰۲ ھ میں اصبہان میں پیدا ہوئے۔اصبہان فارس کا ایک مردم نیز اور مشہور شہر ہے۔آپ نے امام شافعی کے شاگردوں سے تعلیم حاصل کی۔پہلے شافعی المسلک تھے۔پھر مستقل فقہی نظریہ کے بانی بنے جو بعد میں ظاہری مذہب کے نام سے مشہور ہوا اور اسی نسبت سے امام دا و دکو الظاہری کہا جاتا ہے۔۔۔۔امام داؤ د الظاہری بہت بڑے محدث تھے۔ان کی فقہی کتب بھی احادیث کا مجموعہ لگتی ہیں۔امام داؤ د بوجوہ خلق قرآن کے نظریہ کے بھی قائل تھے وہ کہا کرتے تھے إِنَّ القُرآنَ الَّذِي بِأَيْدِينَا مَخْلُوق۔اس نظریہ کے اظہار کی وجہ سے ان کی مقبولیت کم ہو گئی۔عام علماء اور عوام انہیں نا پسند کرنے لگے اور اُن سے حدیث کا سماع ترک کر دیا۔امام داؤ دظاہری نے بڑی کوشش کی کہ وہ امام احمد کے شاگر د بنیں اور اُن سے حدیث پڑھیں لیکن خلق قرآن کے اس عقیدہ کی وجہ سے امام احمد ان کو اپنا شاگرد بنانے پر راضی نہ ہوئے اور انہیں اپنے درس میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی۔امام داؤ د بڑے قومی الحافظ فصیح اللسان اور بڑی جمرات والے بزرگ تھے ، دل کی بات کہنے میں کسی سے نہ ڈرتے ، ہر مشکل اور مخالفت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہتے ، عبادت اور قناعت آپ کا امتیازی وصف تھا۔۲۷۰ ھ میں وفات پائی۔آپ کی کتب جو احادیث اور آثار سے پر ہیں ایک زمانہ میں بڑی مقبول ہو ئیں۔آپ کے بیٹے ابو بکر محمد بن داؤ د خود بڑے محدث تھے اور اپنے والد کے مسلک کے فروغ اور اس کی اشاعت میں دن رات مصروف رہتے تھے۔آپ کے دوسرے شاگر د بھی بڑے لائق اور مخلص تھے۔وہ بھی ظاہری مسلک کی اشاعت کا باعث بنے اور ایک زمانہ ایسا آیا کہ مشرق میں داؤد ظاہری کا مسلک حنفی ، مالکی اور شافعی کے ساتھ چوتھا فقہی مذہب شمار ہونے لگا لیکن پانچویں صدی میں وہ فضیلی علماء کے قال الخطيب البغدادى هو اول من نفى القياس في الأحكام قولا واضطر اليه فعلا و سماه الدليل - تاریخ بغداد جلد ۸ صفحه ۳۷۴ کے محاضرات صفحه ۳۳۷۷ الامام الشافعي صفحه ۲۰۱