تاریخ افکار اسلامی — Page 164
۱۶۴ نظر یہ مذاق بن گیا تھا۔ایک دفعہ ایک مسخرہ واثق کے دربار میں آیا اور کہا میں امیر المؤمنین کی خدمت میں تعزیت کرنے آیا ہوں کیونکہ جو مخلوق ہے اُس نے ایک نہ ایک دن فوت بھی ہونا ہے قرآن کریم فوت ہو گیا تو لوگ تراویح کی نماز کیسے پڑھیں گے۔واثق چیخ اُٹھا اور کہا کمبخت قرآن بھی فوت ہو سکتا ہے لے ایک دفعہ ایک عالم کو گرفتار کر کے واثق کے سامنے لایا گیا وہاں معتزلہ کا سردار احمد بن ابی داؤد بھی بیٹھا تھا اس عالم نے ابن ابی داؤد سے پوچھا کہ: خلق قرآن کا مسئلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء جانتے تھے یا نہیں۔اگر وہ جانتے تھے اور اس کے باوجود خاموش رہے تو ہمیں بھی خاموش رہنا چاہیے اور اگر نعوذ باللہ یہ لوگ جاہل تھے اور اس مسئلہ کے بارہ میں کچھ نہیں جانتے تھے تو پھر اے کمینے (بالکع) تم کہاں سے عالم آگئے ہو۔واثق یہ بات سُن کر اُچھل پڑ اوہ بار بار اس جملہ کو دہراتا اور ابن ابی داؤ کو ملامت کرتا۔واثق نے اس گرفتار بلا عالم کو رہا کر دیا اور اُسے شاباش دی ہے غرض امام احمد اور دوسرے علماء کی استقامت اور ان کے صبر نے مسئلہ خلق قرآن کی شورش کو اپنی موت آپ مار دیا اور قریباً چودہ سال کی ہنگامہ آرائی کے بعد حالات پُرسکون ہو گئے۔خلق قرآن کا مسئلہ دراصل ایک لفظی نزاع تھا جس نے تعصب اور ضد کا رنگ اختیار کر لیا تھا لیکن ایک مدت کی سر پھٹول کے بعد اس کا تال صرف یہ نکلا کہ علم الہی کے لحاظ سے قرآنِ کریم کے معانی قدیم ہیں لیکن اس کے الفاظ جن سے مراد آواز اور حروف ہیں حادث ہیں کیونکہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل سے سنے اور آپ سے آپ کے صحابہ نے اور اس کے بعد ساری اُمت نے سنے اور ان کی تلاوت کی ہے الواثق کے بعد التوکل خلیفہ مقرر ہوا تو اس نے سختی کی پالیسی با لکل ترک کردی۔معتزلہ کو دربار سے نکال دیا اور فقہاء اور محدثین کی رضا جوئی کا خواہشمند ہوا اور اس طرح ملک کا امن و امان بحال ہو گیا۔محاضرات صفحه ۳۲۱ محاضرات صفحه ۳۲۲ کے محاضرات صفحه ۲۲۳ تا ۳۲۷